Al-Risala · August 1990 · page 3

انصاف کا طریقہ

الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۳

ان سب ناموافق پہلوؤں کے باوجود نجاشی نے کسی بات کی کوئی پروا نہیں کی۔ اس نے معاملہ کے صرف عدل وانصاف کے پہلو کو دیکھا، دوسرے تمام ذاتی یا غیر ذاتی پہلوؤں کو اس نے یکسر نظر انداز کردیا۔ اس نے دونوں فریقوں کی بات سن کر معاملہ کی غیر جانبدارانہ تحقیق کی۔ اور پھر جو انصاف کا تقاضا تھا، اس کے مطابق اپنا فیصلہ سنا دیا۔ یہ واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ شاہ نجاشی کے اندر جو ہر انسانیت پوری طرح موجود تھا۔ خدا نے جس فطرت پر اس کو پیدا کیا تھا، اس فطرت کو اس نے اپنی اصل حالت پر باقی رکھا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ حق جب اس کے سامنے آیا تو اس کو سمجھنے میں اسے دیر نہیں لگی۔ اگرچہ بظاہر وہ اس کے تصورات کے خلاف تھا، مگر اس نے کسی تحفظ ذہنی کے بغیر اس کی صداقت کا اعتراف کیا۔ وہ فوراً اس کے آگے جھک گیا۔

اپنی ان خصوصیات کی بنا پر وہ اس قابل ٹھہرا کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحمت کی نظر کرے۔ اس کو ایمان کی توفیق دے کر اس کو آخرت کی ابدی نعمتوں کا مستحق بنائے۔ چنانچہ روایات سے ثابت ہے کہ شاہ نجاشی نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے اس کے حق میں اللہ تعالی سے خصوصی دعائیں کیں۔

سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی عدل کے مطابق فیصلہ کرے، خواہ اس کے لیے اس کے اوپر کوئی دباؤ نہ ہو، خواہ عادلانہ فیصلہ کرنا اس کے نفس اور اس کے مفاد کے خلاف کیوں نہ ہو۔ یہی وہ بلند روحیں ہیں جن کو قیامت میں عرش خداوندی کے سایہ میں جگہ دی جائے گی۔ راه عمل صفحات ۱۵۲ نئی کتاب الہی عدل کی بین الاقوامی استقامت :

قیمت ۲۰ روپیہ قرآن وسنت اور تاریخ کی روشنی میں

‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues

Printed page