پکار کے وقت
الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۱۶
مظلوم کی پکار پر دوڑنا زندہ انسان کی خاص علامت ہے۔ ایک شخص جس کے اندر انسانی جوہر موجود ہو۔ جو اپنے مردانہ اوصاف پر قائم ہو، وہ ایسی کسی پکار کو نظر انداز کرنے کا تحمل نہیں کر سکتا۔ یہی وہ انسانی صفت ہے جس کے بارہ میں عرب شاعر نے کہا ہے کہ ان کا بھائی جب اپنی کسی مصیبت پر انھیں پکارے تو اس وقت وہ تفصیل نہیں پوچھتے، وہ فوراً اس کی مدد پر دوڑ پڑتے ہیں : لا يسئلون اخاهم حين يندبهم فی النائبات على ما قال برهانا مظلوم کی مدد کرنا یا مظلوم کی پکار پر دوڑنا ایک فطری صفت ہے۔ جن لوگوں کی فطرت زندہ ہو، ان کے اندر یہ انسانی خصوصیت بھی ضرور زندہ ہوگی۔ یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص اپنی فطرت کے اعتبار سے زندہ ہو اور اس کے اندر یہ صفت نہ پائی جائے ۔
قومی تعصب یا ذاتی تعلق کے تحت ہر آدمی اپنے لوگوں کی مدد کے لیے دوڑتا ہے۔ مگر اس قسم کے دوڑنے کو کوئی اعلیٰ اخلاقی صفت نہیں کہا جا سکتا ۔ اعلیٰ اخلاقی صفت کا درجہ صرف اس دوڑنے کو حاصل ہے جو ذاتی تعلق یا قومی تعصب جیسی چیزوں سے بلند ہو۔ جب کہ آدمی اس لیے دوڑپڑے کہ پکارنے والا مظلوم ہے ، نہ اس لیے کہ ذاتی مفاد یا جماعتی حمیت کا تقاضا ہے کہ اس کی پکار پر دوڑا جائے۔
ایجنسی ایک پروگرام
اگر آپ الرسالہ کو پسند کرتے ہیں تو الرسالہ کی ایجنسی لیجئے ۔ الرسالہ کی ایجنسی لینا اپنی پسند کو ایک متحرک مشن بنا دینا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues