Al-Risala · August 1990 · page 15

پکار کے وقت

الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۱۵

پکار کے وقت

تھیوفیلس (Theophilus) باز نطینی سلطنت کے آخری دور کا حکمران ہے۔ اس کا مرکز سلطنت قسطنطنیہ تھا۔ اس کا زمانہ حکومت ۸۲۹ء تا ۸۴۲ء ہے۔ تھیو فیلس عباسی خلیفہ المعتصم کا ہم عصر تھا۔ دورِ اول کے مسلمانوں نے قدیم رومی (باز نطینی) سلطنت کے بڑے حصہ کو پہلی صدی ہجری میں فتح کر لیا تھا۔ تاہم قسطنطنیہ اب بھی باز نطینی حکمران کے قبضہ میں تھا۔ موجودہ ترکی کے ایک حصہ پر اب بھی اس کی حکومت قائم تھی۔

قسطنطنیہ کا باز نطینی بادشاہ تھیو فلیس ۲۲۳ ھ (۸۳۷ ء) میں ایک بڑا لشکر لے کر نکلا اور مسلم علاقہ میں پہنچ کر زبطرہ پر چھاپہ مارا۔ اسی کے ساتھ اس نے ملطیہ کے مسلم قلعہ پر حملہ کیا۔ ان حملوں میں اس نے بہت سے مسلمان مردوں اور عورتوں کو قتل کیا۔ انہیں گرفتار کیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے کچھ لوگوں کا مُثلہ کیا۔ اس موقع پر ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ باز نطینی سپاہیوں نے ایک عربی عورت کو پکڑا اور اس کو گھسیٹتے ہوئے لے چلے۔ عورت چلا اٹھی اس کی زبان سے نکلا : وامعتصماه (ہائے معتصم) خلیفہ المعتصم اس وقت بغداد میں تھا۔ وہاں سے آنے والوں نے خلیفہ کو باز نطینی حکمراں کے مظالم کی خبریں بتائیں۔ اسی کے ساتھ مذکورہ عرب عورت کا قصہ بھی بتایا۔ المعتصم اس کو سن کر تڑپ اٹھا۔ اس وقت وہ اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے وامعتصماہ کا لفظ سنا تو اسی وقت لبیک لبیک کہتے ہوئے تخت سے اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ اپنے محل کی چھت پر چڑھا اور پکار کر کہا: النفیر، النفیر (کوچ، کوچ)

اس کے بعد المعتصم نے زبردست تیاری کی اور ایک طاقت ور فوج کو لے کر مقام حادثہ کی طرف روانہ ہوا۔ یہاں تک کہ وہ عموریہ (Amorium) پہنچ گیا۔ عموریہ (ترکی) اس وقت باز نطینیوں کے قبضہ میں تھا اور یہاں ان کا قلعہ تھا۔ المعتصم نے قلعہ کو گھیر لیا اور حکم دیا کہ منجنیق کے ذریعہ اس پر گولے برسائے جائیں۔ یہاں تک کہ اس کی دیواریں ٹوٹ گئیں۔ المعتصم اپنی فوج کو لے کر قلعہ کے اندر داخل ہو گیا۔ اہل قلعہ نے ہتھیار ڈال دیئے ۔ المعتصم نے تمام مسلم قیدیوں کو چھڑایا اور اس عرب عورت کو بھی قید سے رہا کیا جس نے اس سے پہلے وامعتصماہ کہہ کر خلیفہ کو پکارا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues

Printed page