پکار کے وقت
الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۱۸
ہے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ فلسطین میں اور دوسرے ملکوں میں مظلوم مسلمانوں (عورتوں اور مردوں) کی پکار پر بے شمار لوگ اٹھے۔ ۱۹۴۸ میں حسن البنا مسلمانوں کی بہت بڑی جمعیت کے ساتھ اٹھے اور لبیک یا فلسطین کا نعرہ لگاتے ہوئے یہودیوں کے خلاف جہاد کیا۔ ۱۹۶۵ میں جمال عبدالناصر نے حکومت کی پوری طاقت کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا۔ مگر یہ ساری کوششیں غیر موثر ثابت ہوئیں۔ اسی طرح ساری دنیا میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنے مظلوم بھائیوں کی حمایت میں جہاد کیا اور اسی راہ میں اپنی جانیں دیدیں۔
مدینہ میں یا عموریہ میں مظلوم خاتون کی مدد کے لیے جو قربانی دی گئی ، وہ مقدار کے اعتبار سے اس سے بہت کم ہے جو موجودہ زمانہ میں اس قسم کے مظلوم عورتوں اور مردوں کے لیے دی گئی ہے۔ مگر نتیجہ بالکل مختلف ہے۔ مدینہ میں اور عموریہ میں نسبتاً کم قربانی سے جو مقصد حاصل کر لیا گیا تھا، وہ موجودہ زمانہ میں زیادہ قربانی کے باوجود حاصل نہ کیا جا سکا۔ اس کی وجہ نہایت سادہ ہے۔ مدینہ اور عموریہ کا اقدام ضروری تیاری کے بعد کیا گیا تھا، جب کہ موجودہ زمانہ کے اقدامات ضروری تیاری کے بغیر کیے جاتے رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دور اول کے مسلمانوں کو اپنے اقدام میں مکمل کامیابی ہوئی، اور موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو اپنے اقدام میں مطلق کوئی کامیابی حاصل نہ ہوسکی ۔
صاحب کتاب اور اس قسم کے دوسرے مسلمانوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنی سوچ کا آغاز " مدینہ " اور عموریہ " سے کر رہے ہیں ۔ حالاں کہ یہ صحیح نہیں ۔ انھیں اپنی سوچ کا آغاز " مکہ " سے کرنا چاہیے ۔ " مدینہ " اور " عموریہ " تو تاریخ کا اختتام تھا ، وہ تاریخ کا آغاز نہ تھا۔ تاریخ کا آغاز تو مکہ سے ہوا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے زوال کی بنا پر تاریخ دوبارہ پیچھے طرف لوٹ گئی ہے۔ آج ہم اپنی تاریخ کے آغاز میں ہیں، ہم اپنی تاریخ کے اختتام میں نہیں ہیں۔ موجودہ مسلم رہنما اس راز کو سمجھ نہ سکے ۔ اس لیے وہ ایسے اقدامات کرتے رہے جس کا نتیجہ ناکامی کے سوا کسی اور صورت میں نکلنے والا نہ تھا۔
اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے ہمیں پیچھے لوٹ کر مکہ کے ابتدائی دور میں جانا ہوگا۔ اس اعتبار سے جب ہم مکہ کے حالات کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہاں ہم کو ” مدینہ “ اور عمورہ “ سے بالکل
‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues