پکار کے وقت
الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۱۹
دوپہر کے وقت جب گرمی خوب تیز ہو جاتی تو وہ ان مسلمانوں کو مکہ کی گرم زمین پر لٹا کر تکلیف دیتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرتے اور وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہتے :
صبراً آل ياسر فان موعدكم الجنة آل ياسر صبر کرو، تمہاری وعدہ گاہ جنت ہے ۔
یاسر کی ماں کو اسی طرح عذاب دے کر انھوں نے مار ڈالا ۔ مگر وہ کسی حال میں اسلام کو چھوڑنے پر راضی نہ ہوئیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ مدینہ اور عمورہ کے واقعہ کو اس وقت تک سمجھا نہیں جاسکتا جب تک مکہ کے مذکورہ واقعہ کو اس سے ملا کر نہ دیکھا جائے ۔ کیا وجہ ہے کہ مدینہ میں جس قسم کے واقعہ پر اقدام کیا گیا۔ مکہ میں اسی قسم کے شدید تر واقعہ پر کوئی اقدام نہیں کیا گیا ۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مکہ کا زمانہ تیاری اور استحکام کا زمانہ تھا۔ تیاری اور استحکام کے زمانہ میں اقدام غیر مؤثر ہوتا ۔ اس لیے مکہ میں صبر کیا گیا۔ صبر دراصل تیاری اور استحکام کی قیمت ہے۔ جو لوگ ابتدائی مرحلہ میں صبر نہ کریں وہ بعد کے مرحلہ میں تیاری اور استحکام کے درجہ کو بھی نہیں پہنچ سکتے ۔
مکہ میں ناقابل برداشت کو برداشت کیا جاتا ہے، اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ مدینہ میں ناقابل برداشت کو برداشت کرنے کی حاجت نہ رہے۔ جو لوگ مرحلہ تیاری والی قربانی نہ دے سکیں وہ مرحلہ استحکام والی منزل کو بھی نہیں پہنچ سکتے ۔
یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے ۔ صدیوں کے عمل کے نتیجہ میں مسلمان دوبارہ اپنی تاریخ کے آغاز میں پہونچ گیے تھے ۔ اب ضرورت تھی کہ دوبارہ ان کے درمیان تیاری کا وہی عمل جاری کیا جائے جو مکہ میں جاری کیا گیا تھا ۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما اس راز کو سمجھ نہ سکے ۔ انہوں نے اپنے آپ کو تاریخ کے اختتام والے مرحلہ میں فرض کر کے عملی اقدامات شروع کر دیے۔ ۔ ایسے ناکافی اقدامات پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے لیے بھی مفید نہ ہو سکتے تھے ، پھر وہ موجودہ مسلمانوں کے لیے کیوں کر مفید ہوتے ۔ یہی وجہ ہے جس نے ان کے عملی اقدامات کو بے فائدہ اور غیر مؤثر بنا دیا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues