Al-Risala · August 1990 · page 22

بچوں کی تربیت

الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۲۲

کر سکتے ہیں۔ کیوں کہ اس سے آپ کی اپنی ذات پر کوئی زد نہیں پڑتی۔ مگر جب خود اپنی ایک غلطی کے اعتراف کا معاملہ ہو تو اس وقت خود اپنی ذات زد میں آجاتی ہے۔ چنانچہ پہلے میدان کا کامیاب انسان دوسرے میدان میں ناکام ثابت ہوتا ہے۔

یہی وہ خاص وجہ ہے جس کی بنا پر آدمی اصول کو بیان کرتا ہے مگر وہ اصول پر عمل نہیں کرتا۔ کیوں کہ اصول پر عمل کرتے ہوئے وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے مفادات مجروح ہو رہے ہیں، کہیں اس کو اپنی انا پر زد پڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ کہیں ایک اصول پر عمل کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کی طرف سے پیش آنیوالی ناخوش گواریوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کر لیا جائے۔ برائی کے جواب میں بھلائی کا رویہ اختیار کیا جائے۔

اسی طرح کبھی اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک ملی ہوئی چیز کو بلا شرط دوسرے کے حوالے کر دیا جائے، کیوں کہ وہ اپنی چیز نہ تھی بلکہ دوسرے کی چیز تھی۔ کبھی اس کی خاطر دشمن کو گلے لگایا جاتا ہے اور جو دوست تھا، اس کو دشمن بنا لینا پڑتا ہے۔

یہ سب بلاشبہ نہایت مشکل کام ہیں۔ لیکن گھر کے اندر انھیں چینوں کا ماحول قائم کرنے کا نام بچوں کی تربیت ہے۔ اگر آپ اپنی عملی زندگی میں ان اصولوں پر عمل نہ کریں تو اس کے بعد کوئی چیز آپ کے بچوں کو بگڑنے سے بچا نہیں سکتی، خواہ آپ صبح و شام اپنے گھر میں قرآن کی تلاوت کرتے ہوں اور خواہ آپ نے اپنے بچوں اور بچیوں کو دارالاصلاح اور جامعۃ الصالحات میں تعلیمی سند لینے کے لیے بھیج رکھا ہو۔

حیدر آباد میں الرسالہ اور اسلامی مرکز کی کتابوں کے لیے مندرجہ ذیل پتہ پر رابطہ قائم کریں:

AL-RISALA ACADEMY 3-5-780/19/2, King Kothi Opposite: Azam Manzil HYDERABAD 500 039 Phone: 231607

‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues

Printed page