Al-Risala · August 1990 · page 21

بچوں کی تربیت

الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۲۱

کو صرف بچوں کے دنیوی حوصلوں کی تکمیل میں خرچ کریں گے۔

یہ دینی تربیت نہیں بلکہ دینی تربیت کا مذاق ہے۔ دینی تربیت دینی الفاظ بولنے کا نام نہیں، بلکہ دینی ماحول بنانے کا نام ہے۔ جس گھر کا عملی ماحول دین کے مطابق نہ ہو، اس گھر میں کچھ " قول " بول کر آپ دینی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ گھر کی بات چیت ، گھر کا پیسہ، گھر کی دل چسپی ، گھر کی سرگرمی، گھر کے روز و شب ، ہر چیز کو دین پر ڈھالنا ہو گا، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ بچوں کے اندر دینی مزاج پیدا ہو۔

قول اور عمل کا یہ فرق عام ہے۔ ایسی حالت میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بات کہنا سادہ طور پر صرف الفاظ بولنا ہے۔ جب کہ عمل کا تعلق دوسری بہت سی چیزوں سے جڑا ہوا ہے ۔ آدمی اگر ان دوسرے پہلوؤں کی رعایت کرنے کے لیے تیار نہ ہو تو وہ کبھی عمل کا ثبوت نہیں دے سکتا۔

ایک شخص جب اسٹیج پر کھڑا ہو کر بولتا ہے تو وہ بات کو بات کی حیثیت سے کہتا ہے ۔ مثلاً وہ اسلام کے اخلاقی اصولوں پر بول رہا ہو تو وہ کتابوں میں لکھی ہوئی باتوں کو شاندار الفاظ میں دہرا دے گا۔ کتابی معلومات اور الفاظ کا ذخیرہ ایک عمدہ اخلاقی تقریر کو ظہور میں لانے کے لیے بالکل کافی ہے۔

مگر عمل کا معاملہ سراسر اس سے مختلف ہے۔ کسی اصول پر عمل کرنا کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ عمل کرنے کے وقت ایسا ہوتا ہے کہ طرح طرح کی رکاوٹیں آدمی کی راہ میں حائل ہو جاتی ہیں۔ قول میں زبان سے لفظوں کو دہرا کر کام چل جاتا ہے۔ جب کہ عمل میں مشکلات کے خلاف جہاد کرتے عمل کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً ایک شخص کو آپ دلائل کے ساتھ اس کی ایک غلطی بتاتے ہیں اور اس کے لیے اس عمل کا وقت آتا ہے کہ وہ اپنی زبان سے یہ کہے کہ " میں نے غلطی کی "۔ بظاہر یہ صرف چند الفاظ کا بولنا ہے۔ مگر اس قسم کا اعتراف آدمی کی پوری شخصیت سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ ایسا اعتراف اپنے وقار کو ختم کرنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے جس کی بنا پر ہم یہ منظر دیکھتے ہیں کہ دوسروں کی غلطی بیان کرنے والے بے شمار ہیں مگر اپنی غلطی کا اعتراف کرنے والا کوئی نہیں۔ آپ قدیم اسلامی شخصیتوں کے اعتراف حق کے واقعات اپنی تقریر میں شاندار طور پر بیان

‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues

Printed page