Al-Risala · August 1990 · page 26

آسان حل

الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۲۶

آسان حل

قرآن میں جن پیغمبروں کا ذکر ہے ان میں سے ایک حضرت ایوب علیہ السلام ہیں۔ یہ بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے۔ ان کا زمانہ غالباً آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ اسرائیلی روایات کے مطابق، وہ جنوبی فلسطین کے قدیم شہر عوض (Uz) میں رہتے تھے۔ حضرت ایوب کا ذکر قرآن میں ان مقامات پر آیا ہے: النساء ۱۶۳، الانعام ۸۴، الانبیاء ۸۳، ص ۴۱۔ اس کے علاوہ بائبل میں ایوب (Job) کے نام سے ایک مفصل کتاب ہے۔ آپ کے حالات کی تفصیل تفسیر کی کتابوں اور بائبل میں دیکھی جاسکتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ حضرت ایوب علیہ السلام پہلے نہایت خوشحال اور تندرست تھے۔ اس کے بعد آپ کے حالات بدلے۔ دولت ختم ہوگئی۔ آپ کو سخت قسم کی بیماری لگ گئی جس میں آپ کے سارے بدن میں پھوڑے ہی پھوڑے ہوگئے۔ ایسے حالات میں آدمی کبھی کبھی جھنجھلا اٹھتا ہے۔ اسی طرح کی کیفیت میں ایک روز اپنی بیوی کے بارہ میں ان کی زبان سے نکل گیا کہ میں اچھا ہوگیا تو تم کو ایک سو کوڑے ماروں گا۔ یہ بات آپ نے خدا کی قسم کھاکر فرمائی۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوئی۔ آپ بالکل تندرست ہوگئے ۔ مال و دولت بھی دوبارہ حاصل ہوگیا۔ اب یہ مسئلہ تھا کہ قسم پورا کرنے کے لئے آپ کو اپنی بیوی کو سو کوڑے مارنا چاہئے، ورنہ آپ شرعی اعتبار سے حانث قرار پائیں گے۔ دوسری طرف آپ کا ضمیر یہ کہتا تھا کہ میں نے اپنی ذاتی کیفیت کے تحت بیوی کو سو کوڑے مارنے کی قسم کھالی تھی۔ ورنہ حقیقۃ اس نے کوئی جرم نہیں کیا ہے بلکہ اس کو اس قسم کی سخت سزادی جائے۔

قرآن کے مطابق، اس وقت آپ پر یہ حکم اترا کہ تم ایک سو سینکوں کا ایک مُٹھا اپنے ہاتھ میں لو اور اس سے اپنی بیوی کو مار دو۔ اس سے تمہارا عہد پورا ہو جائے گا اور تم قسم میں بھی جھوٹے ثابت نہ ہوگے (ص :۴۴) اس حکم کے مطابق حضرت ایوب نے جھاڑو کی مانند ایک سو سینکوں کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک بار اپنی بیوی کو ہلکے طور پر مار دیا۔ اس طرح اللہ نے ان کے ضمیر کو مطمئن کر دیا۔ اس واقعہ سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے۔ اور وہ ہے بوقت ضرورت کسی عمل کو حقیقی

‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues

Printed page