آسان حل
الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۲۷
صورت کے بجائے علامتی صورت میں انجام دینا۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک عمل کو اس کی حقیقی صورت میں انجام دینا کسی شخصی یا اجتماعی سبب سے غیر معقول بن جاتا ہے۔ دوسری طرف بظاہر یہ بھی ممکن نہیں ہوتا کہ اس کو سرے سے چھوڑ یا جائے۔ ایسے وقت میں شریعت میں یہ طریقہ بتا دیا گیا ہے کہ اس فعل کو علامتی طور پر انجام دے لیا جائے۔
اس اصول کے توصیبی انطباق کی ایک دلچسپ مثال مجھے ۱۹۸۸ء میں یمن کے سفر میں دیکھنے کو ملی۔ قدیم زمانہ میں یمن میں یہ رواج تھا کہ ہر شخص اپنے پاس ایک تلوار رکھتا تھا۔ صدیوں کے عمل کے نتیجہ میں تلوار رکھنے کا یہ رواج ان کے یہاں محض سادہ رواج نہ رہا بلکہ وہ مردانگی کی علامت بن گیا ۔ اگر کوئی شخص اپنے ساتھ تلوار نہ رکھے تو لوگوں کی نظر میں وہ حقیر بن جاتا تھا۔ تلوار رکھنے کا یہ رواج قبائلی دور کی یادگار ہے۔ اس زمانہ میں تحفظ ہر شخص کی ایک ذاتی ذمہ داری سمجھی جاتی تھی۔ مگر موجودہ زمانہ منظم ریاستوں کا زمانہ ہے۔ اب تحفظ ریاست کی ذمہ داری بن چکی ہے، اور اس کے لئے ہر ملک میں اعلیٰ پیمانہ پر پولیس کا انتظام کیا جاتا ہے۔ حالات کی اس تبدیلی نے اب ہر وقت تلوار لٹکائے رکھنے کو ایک بے فائدہ بوجھ بنا دیا ہے۔
اس بنا پر یمن کی نئی نسل نے یہ کہنا شروع کیا کہ اب ہمیں تلوار رکھنے کے طریقہ کو ختم کر دینا چاہئے۔ تاہم صدیوں کے رواج کا زور اس کے کلی ترک میں مانع تھا۔ کچھ لوگوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ تلوار کے استعمال کو یکسر ختم نہ کیا جائے، البتہ اس میں یہ تبدیلی کر لی جائے کہ حقیقی تلوار کے بجائے علامتی تلوار کا استعمال شروع کر دیا جائے۔
جدیدیمن میں اب اسی کو اختیار کر لیا گیا ہے۔ وہ لوگ اب ماضی کی طرح اپنے ساتھ بڑی بڑی تلواریں نہیں لئے رہتے۔ اس کے بجائے وہ تلوار کی شکل کی چھوٹی سی چیز (ابنبیہ) اپنے پاس رکھتے ہیں۔ اس کی دھار کند ہوتی ہے اور وہ غلاف کے اندر رکھی جاتی ہے۔ اس طرح ان کا احساس مردانگی بھی مجروح نہیں ہوا اور رواج بھی بظاہر باقی رہا۔ تفصیل کے لئے: الرسالہ اپریل ۱۹۸۹ء، صفحه ۲۵ )
یہ بات مجھے اس وقت یاد آئی جب ۱۵ اپریل ۱۹۹۰ء کے اخبارات میں نے ایک خبر پڑھی، ٹائمس آف انڈیا انڈیا(۱۵ اپریل ۱۹۹۰ء، کا صفحہ ۳ دیکھئے ۔ اس پر ایک نمایاں تصویر ہے جس میں دو آدمی اپنے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues