Al-Risala · August 1990 · page 33

سفرنامہ ۔ قسط ۳

الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۳۳

کے درمیان ریلوے لائن قائم کی گئی۔ ۱۹۴۶ میں اس کو مغربی قبضہ سے آزادی حاصل ہوئی۔ موجودہ دمشق تقریباً ایک سومربع کلومیٹر کے رقبہ میں آباد ہے۔ دمشق کا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اس کے مشرق میں وسط شہر سے تقریباً ۱۹ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ ۱۹۷۱ کی مردم شماری کے مطابق، شہر کی آبادی دس لاکھ سے زیادہ ہے جس میں تقریباً سوا لاکھ فلسطینی مہاجرین شامل ہیں۔ دمشق کی آبادی میں ۹۱ فیصد مسلمان، ۸ فی صد عیسائی ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ یہودی بھی یہاں آباد ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے قریش پر اپنی اس نعمت کا ذکر فرمایا ہے کہ اس نے ان کے لئے جاڑے اور گرمی میں پرامن تجارتی سفروں کا انتظام کیا (قریش (1)، یہاں گرمی کے زمانہ کے سفر سے مراد قریش کا وہ تجارتی سفر ہے جو گرمی کے موسم میں مکہ سے دمشق وغیرہ کی طرف ہوتا تھا جو کہ حجاز کی نسبت سے ٹھنڈے علاقے تھے۔ قدیم زمانہ میں دمشق ایک عرصہ تک بین اقوامی تجارت کا مرکز رہا ہے۔ موجودہ دمشق کو بین اقوامی تجارتی نقشہ میں کوئی قابل ذکر مقام حاصل نہیں۔ البتہ وہ اپنے تاریخی آثار کی بنا پر بین اقوامی سیاحوں کی کشش کا مرکز ضرور ہے۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ دمشق کی اہمیت آج کے انسان کے لئے صرف اپنے ”ماضی“ کی بنا پر ہے، وہ اپنے ”حال“ کے اعتبار سے لوگوں کے لئے اہم نہیں۔ یہی آج تمام دنیا کے مسلمانوں کا معاملہ ہے۔ مسلمان اب دنیا کے لئے گزری ہوئی تاریخ کا موضوع ہیں، جدید انسان کے لئے وہ حال اور مستقبل کے عنوان کی حیثیت نہیں رکھتے۔ دمشق کی بہت سی خصوصیات میں سے ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ روایات کے مطابق، یہی وہ مقام ہے جہاں خروج دجال کے وقت حضرت مسیح دوبارہ اتریں گے۔ یہ روایت مسلم، ابوداؤد ترمذی، ابن ماجہ وغیرہ میں آئی ہے۔ یہاں ہم صحیح مسلم سے متعلقہ الفاظ نقل کرتے ہیں: قال مسلم في صحیحه عن النواس بن سمعان قال : ذكر رسول الله ﷺ الدجال فينا هو كذلك إذ بعث الله (المسيح بن مريم) عليه السلام. فيترل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهرودتين واضعاً كفيه على أجنحة ملكين، إذا طأطأ رأسه قطر، وإذا رفعه تحدر منه كجمان اللؤلؤ، ولا يحل لكافر يجد ريح نفسه إلا مات، وَنَفَسُهُ ينتهي حيث ينتهي طرفه، فيطلبه حتى يدركه بباب لد، فيقتله، ثم يأتي عيسى عليه السلام قوماً. قد عَصَمَهُمُ الله منه فيمسح عن وجوههم، ويحدثهم بدرجاتهم في الجنة. حضرت نواس بن سمعان کہتے ہیں کہ اسی دوران اللہ مسیح بن مریم کو بھیجے گا، وہ سفید مینار کے پاس دمشق کے مشرقی حصہ میں اتریں گے، دو زرد کپڑے کے درمیان، دو فرشتوں کے بازوؤں پر اپنے ہاتھ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues

Printed page