سفرنامہ ۔ قسط ۳
الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۳۲
ان واقعات پر سوچتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ غالباً یہی مطلب اس حدیث کا جس میں کہا گیا ہے کہ آخر زمانہ میں امت کے بعد کے لوگ اپنے پچھلے کے لوگوں پر لعنت کریں گے (لعن آخر هذه الامة اولها)، اس روایت میں امت کے اول حصہ سے صحابہ و تابعین کا زمانہ مراد نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ دور اول کے لوگ تو بعد والوں کے لئے فخر بن چکے ہوں گے۔ پھر وہ ان پر لعنت کیسے کرسکتے ہیں۔ اس میں لعنت کا مطلب سادہ معنوں میں تنقید بھی نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ تنقید تو خود صحابہ کے معیاری دور میں جاری تھی۔ پھر تنقید کو نا محمود چیز کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں زوال کے دور میں پیدا ہونے والے قومی مزاج کی بات کہی گئی ہے۔ دور زوال میں مسلمانوں کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ ان کی اپنی کمزوریوں کے نتیجہ میں ان کے لئے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں، ان کا ذمہ دار وہ دوسروں کو بتاتے ہیں۔ وہ دوسروں کے خلاف دھوم مچا کر ایک "انقلاب" لاتے ہیں۔ بعد کو جب یہ نام نہاد انقلاب ان کے مسائل کو حل نہیں کرتا تو ان کے درمیان دوسرے لیڈر ابھرتے ہیں، جو پہلے لیڈر کو بر ابتا کر دوبارہ ایک اور منفی قیادت ظہور میں لاتے ہیں۔ یہی مطلب ہے حدیث کے ان الفاظ کا کہ امت کا آخر اپنے اول کو ملعون ٹھہرائے گا۔ راستہ میں جہاز دمشق میں اترا۔ اچانک اپنے آپ کو دمشق میں پا کر اس علاقہ کے بارہ میں بہت سی باتیں ذہن میں تازہ ہوگئیں۔
دمشق غالباً دنیا کا سب سے زیادہ پرانا شہر ہے جو سمندر سے تقریباً ۵۰ میل دور آباد ہے۔ قدیم زمانہ سے وہ مختلف حکمرانوں کے قبضہ میں رہا ہے۔ چوتھی صدی عیسوی میں جب کہ وہ رومی (باز نطینی) قبضہ میں تھا، یہاں کے اکثر باشندے عیسائی ہوگئے۔ جو پیٹر کا مندر گرجا گھر میں تبدیل کر دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ جگہ اب جامع اموی میں شامل ہے۔ مسلم خلیفہ نے یہ جگہ عیسائیوں سے خرید کر حاصل کی تھی: The Christian cathedral was purchased by the caliphate and turned into a mosque. (5/447)
۶۳۵ء میں دمشق عربوں کے قبضہ میں آیا۔ ۵۰۷-۶۴۱ء کے درمیان وہ اسلامی خلافت کا مرکز رہا۔ ۱۵۱۶ء میں ترکوں نے اس پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد نے چار سو سال تک وہ ان کے قبضہ میں رہا۔ ۱۸۹۴ء میں دمشق اور بیروت کے درمیان ریلوے۔ لائن بچھائی گئی ۔ ۱۹۰۸ء میں دمشق اور مدینہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues