سفرنامہ ۔ قسط ۳
الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۳۵
تعریف کی اور ان کے بہت سے اخلاقی واقعات بتائے جو ہندوستان جیسے ملکوں مين ناقابل تصور ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ شام میں اگرچہ سخت حکومت قائم ہے مگر اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ وہاں بہت امن وامان ہے۔ اور جان و مال کا کوئی خطرہ کسی آدمی کو میں رہتا۔
ٹیکسی والا اگر کچھ پریشان کرے تو صرف یہ کہنا کافی ہوتا ہے کہ میں شرطہ (پولیس) کو ٹیلی فون کرتا ہوں۔ ایک شریر آدمی نے سڑک پر کسی لڑکی کو چھیڑ دیا۔ ایک آدمی آتا ہے جو بظاہر عام لباس میں ہے۔ وہ چھیڑنے والے کی سرزنش کرتا ہے۔ وہ شخص اس آدمی سے بھی لڑنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ اب اگر وہ آدمی صرف اتنا کہہ دے کہ تعرف میں انا (تعرف من أنا، یعنی تم جانتے ہو کہ میں کون ہوں ۔ اتنا کہتے ہی شریر آدمی دہشت زدہ ہو کر رک جائے گا۔
انھوں نے بتایا کہ شام کے لوگ بہت مہمان نواز ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک بار وہ چند اور طالبعلموں کے ساتھ شام کے دیہات نہیں گئے۔ ایک زمیندار نے اپنے باغ میں انھیں ہر قسم کے پھل کھلائے۔ گھر پر دعوت کی۔ کہا کہ آپ لوگ کئی دن ٹھہرئے۔ جب وہ لوگ ٹھہرنے پر راضی نہیں ہوئے تو ریل کا فرسٹ کلاس کا کرایہ اور ہر ایک کو ۵۰۰ لیرا دے کر رخصت کیا۔
۲۴ مارچ کو صبح ۷ بجے ٹھیک وقت پر جہاز کراچی کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ پاکستان ائیرویز پر جب بھی میں نے سفر کیا ہے، میں نے پایا ہے کہ وہ وقت کے بہت پابند ہیں۔ اس کے برعکس ایئر انڈیا کم از کم میرے تجربہ میں وقت کے معاملہ میں پاکستان ائیر لائنز سے پیچھے ہے۔ اس سفر میں ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب کا ساتھ تھا۔ ان کی امامت میں تین نمازیں (مغرب، عشاء، فجر) ہوائی جہاز کے اندر جماعت کے ساتھ ادا کی۔ اڑتے ہوئے جہاز میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا بڑا عجیب معلوم ہوا جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے سوچا کہ زمین بھی تو ایک اڑتا ہوا مقدرتی جہاز ہے۔ مگر زمین کے جہاز میں بچپن سے سوار ہونے کی وجہ سے استجاب کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ لیکن جہاز کے اندر آدمی اپنے شعور کے تحت چڑھتا ہے، اس لئے جہاز کی نماز استجاب کی کیفیت پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ کراچی میں سوسائٹی آف فریشنز کے تحت ایک سمپوزیم ہوا۔ اس کا عنوان تھا : ”بے صبر معاشو اور قومی اتحاد کے مسائل‘‘ اس موضوع پر مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ علامہ اقبال کے صاحبزادے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues