سفرنامہ ۔ قسط ۳
الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۳۶
ڈاکٹر جاوید اقبال نے کہا : افق پر زیادہ روشنی نہیں ہے۔ لیکن بقا کی موہوم امید موجود ہے۔ وہ بھی اس صورت میں کہ ہم ..... (جنگ ۲۴ مارچ ۱۹۹۰)
" بے صبر امعاشرہ موجودہ زمانہ کے مسلم معاشرہ کے لئے صحیح ترین لفظ ہے۔ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ پیش آرہا ہے ، اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ مسلمانوں نے صبر کو کھو دیا ہے۔
زندگی کار از صبر ہے۔ صبر کا مطلب ہے، موجودہ صورت حال میں جو مواقع حاصل نہیں ہیں، ان پر صبر کرتے ہوئے ممکن مواقع کے میدان میں جدوجہد کرنا۔ مگر مسلمان ممکن مواقع کے استعمال پر قناعت نہیں کر پاتے۔ وہ ناممکن مواقع کی طرف دوڑتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے۔ مسلمان نہ ممکن مواقع کو استعمال کر پاتے ہیں اور نہ ناممکن مواقع کو۔ پاکستان میں مہاجر اور غیر مہاجر نے ایک دوسرے کے مقابلہ میں صبر کو کھو دیا ہے۔ ہندستان میں ہندو اور مسلمان، مسلم ملکوں میں اسلامی جماعتیں اور مسلم حکمران، فلپائن جیسے ملکوں میں مسلم اقلیت اور مقامی حکومت ، ایک دوسرے کے خلاف بے صبر ہورہے ہیں۔ یہی بے صبری موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کا اصل سبب ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی کار از صبر ہے۔ موجودہ دنیا میں مختلف اسباب سے لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے ناگواری کا تجربہ ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ ایک خاندان کے مختلف افراد کے درمیان بھی بار بار اس قسم کے تلخ تجربات پیش آتے ہیں۔ یہ خدا کا قانون ہے۔ اور یہ صورت حال اس وقت تک باقی رہے گی جب تک قیامت نہ آجائے۔ اس لئے اس پر صرف صبر کیا جاسکتا ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
پاکستان کے مہاجر اب ایک علیحدہ قومیت کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ مہاجر قومیت کے ایک شارح مولانا وصی مظہر ندوی نے لکھا ہے کہ :
" بھارت سے آنے والے مسلمان ۴۰ سال کے عرصہ میں قدیم باشندگان سندھ کے ساتھ گھل مل نہ سکے۔ اب خواہ اس صورت حال کی ذمہ داری خود آنے والوں پر ہو یا سندھ کے پرانے رہنے والوں کی قیادت پر ہو۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ مہاجرین سندھ کے معاملات میں وہ اندازہ نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues