Al-Risala · August 1990 · page 38

سفرنامہ ۔ قسط ۳

الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۳۸

و بر بادی کو خود دعوت دی ہے۔

میں نے سوچا کہ صدیوں کی اسلامی جدوجہد کے بعد تو یہ نتیجہ سامنے آیا ہے۔ اگر کہیں ہمارے اکابر کی یہ جدوجہد صرف چند برسوں پر محیط ہوتی تو اس کا نتیجہ کتنا بھیانک ہوتا۔ کراچی کے اخبار جنگ (۲۳ مارچ ۱۹۹۰) کے ایڈیٹوریل کے صفحہ پر ایک ادارتی نوٹ کا عنوان تھا: "بھارت میں مسلم کشی کی نئی سازش" اس نوٹ میں بتایا گیا تھا کہ "بھارت میں بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو گیا ہے: اس سلسلہ میں بتایا گیا تھا کہ "نئی دہلی میں نظام الدین اولیاء کے مزار مبارک کے قریب انتہا پسند ہندوؤں نے ایک نئے مندر کی تعمیر شروع کر دی ہے تاکہ مسلمانوں کو اشتعال دلایا جا سکے۔

میں اسی "نظام الدین" میں رہتا ہوں جس کی بابت یہ خبر دی گئی تھی کہ وہاں نیا مندر بنا کر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ قدرتی طور پر مجھے تجسس ہوا کہ معلوم کروں کہ یہ نیا مندر نظام الدین میں کہاں بن رہا ہے۔ چنانچہ میں نے دہلی پہنچ کر معلوم کرنا شروع کیا۔ پتہ چلا کہ یہ "نیا مندر" بنانے کا مسئلہ نہ تھا۔ بلکہ قبرستان اور شمشان بھومی کا مسئلہ تھا۔ اس میں شک نہیں کہ اس موقع پر فرقہ پرست ہندوؤں نے زیادتی سے کام لیا۔ مگر انھیں اس زیادتی کا موقع خود مسلمانوں کی نادانی نے فراہم کیا تھا۔

کراچی میں میرا قیام مسٹر طارق (فضلی سنٹر لمیٹڈ) کے یہاں تھا۔ ان کے والد جناب فضل الرحمن صاحب (وفات ۸ فروری ۱۹۸۹) کو الرسالة مشن سے نہایت گہرا تعلق تھا۔ انھوں نے ہماری تمام مطبوعات کو اپنے یہاں سے شائع کیا۔ اب ان کے صاحبزادے جناب طارق رحمن صاحب ان کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہاں جناب عبد الرحمن چھا بڑا صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے فاران کلب انٹرنیشنل کا سنٹر دکھایا جو کراچی میں زیر تعمیر ہے۔ وہ اور ان کے ساتھی تعمیری مزاج رکھتے ہیں اور سیاست وغیرہ سے دور رہ کر تعمیری انداز میں ملی خدمت کا کام انجام دے رہے ہیں۔ گفتگو کے دوران ایک واقعہ کا ذکر آیا جس میں افتتاحی تقریب کا کیک کاٹنے پر دشمنوں کا جھگڑا ہو گیا۔ ہر ایک چاہتا تھا کہ میں کاٹوں۔ عبد الرحمن چھا بڑا صاحب نے کہا کہ اس طرح کے معاملہ کو

‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues

Printed page