سفرنامہ ۔ قسط ۳
الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۳۷
رکھتے جو اندازِ فکر پرانے سندھی بھائیوں کا ہے۔ اس وجہ سے مہاجرین اب نفسیاتی طور پر ایک علیحدہ وجود بن چکے ہیں۔ اور اگر ان کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو اس کے نتائج سندھ اور پاکستان کے حق میں بے حد خطرناک نکل سکتے ہیں: (ہفت روزہ تکبیر، ۱۲ مارچ، ۱۹۸۷، صفحہ ۸) حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں مہاجر اور سندھی کے درمیان جو شدید مسئلہ پیدا ہو گیا ہے وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے عین وہی ہے جو ہندوستان میں مسلم اور ہندو کی صورت میں پایا جاتا ہے۔ دونوں جگہ عدم برداشت نے یہ مسئلہ پیدا کیا ہے، اور برداشت کا اصول اختیار کر کے ہی اس کو حل کیا جا سکتا ہے۔
مہاجر جب پاکستان گئے وہ اس احساسِ فخر کے ساتھ گئے کہ ہم پاکستان کے خالق ہیں۔ مزید یہ کہ سندھ کے اقتصادی وسائل پر زیادہ تر انہیں مہاجرین کا قبضہ ہو گیا۔ اس نے ایک طرف مہاجرین میں احساسِ برتری کو ابھارا اور دوسری طرف مقامی سندھی مسلمانوں میں احساسِ کمتری کی صورت میں ردِ عمل پیدا ہوا۔ مہاجرین کی نوجوان قیادت نے اس مسئلہ کو پرتشدد قسم کی مہاجر قومی تحریک کے ذریعہ حل کرنا چاہا۔ یہ پٹرول پر آگ ڈالنے کے ہم معنی تھا۔ چنانچہ مسئلہ پہلے سے زیادہ شدید صورت اختیار کر گیا۔
میرے نزدیک اس کا حل صرف یہ ہے کہ مہاجرین سندھی مسلمانوں کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ کریں۔ "وہ مہاجر قومیت" کا علیحدگی پسند نظریہ چھوڑ کر سندھیوں سے مل کر بھائی بھائی بن جائیں۔ دوسری ہر تدبیر صرف الٹ نتیجہ پیدا کرنے والی ثابت ہوگی۔ اخبار جسارت کے اندر کے صفحہ پر ایک مضمون (مسلمانانِ برصغیر کی منزل مراد) درج تھا۔ اس مضمون کا آغاز ان الفاظ سے ہوا تھا: "تحریک پاکستان کا ایک طویل پس منظر ہے۔ جو لوگ قیام پاکستان کو چند برسوں کی جدوجہد کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، وہ شدید قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ یہ جدوجہد صدیوں پر محیط ہے۔ دوسری طرف روزنامہ جسارت ۲۳ مارچ ۱۹۹۰ء کے صفحہ اول پر جماعت اسلامی کے نائب امیر مولانا جان محمد عباسی کی تقریر چھپی ہوئی تھی۔ انھوں نے پاکستانی عوام سے کہا: "قوم کی اکثریت نے نفسیاتی خواہشات سے مغلوب ہو کر اسلام سے نابلد قیادت منتخب کر کے اپنے تمام اختیارات انسانی خون سے سیاسی پیاس بجھانے والوں کے سپرد کر کے اپنی تباہی
‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues