سفرنامہ ۔ قسط ۳
الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۴۲
نے اپنے استحکام کے لئے خاموش اور ٹھوس کام کاا۔ اس نے اس طرح اپنے آپ کو اس پوزیشن میں کرلیا کہ وہ اپنی مستحکم معاشی حیثیت کا فائدہ اٹھا کر تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں قدم جمائے اور پھر ان دو محاذوں سے سماجی اور سیاسی تحریکوں کو کنٹرول کرے (دسمبر ۱۹۸۹ء)
رپورٹ میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ ”۳۰ سالہ خاموش تعمیری عمل کا نتیجہ ہے کہ آج سندھ کے ہندو اپنے علاقہ میں تعلیم، سیاست، زراعت، تجارت، صحافت، ایڈمنسٹریشن، غرض ہر چیز پر اپنے عددی تناسب سے بہت زیادہ قبضہ کئے ہوئے ہیں۔ وہ مسلمانوں سے زیادہ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے علاقہ میں بھارتی کرنسی کے استعمال کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں“ (صفحہ ۱۶، ۴ جنوری ۱۹۹۰ء۔
عجیب بات ہے کہ اس پورے مضمون میں وہی احتجاجی زبان استعمال کی گئی ہے جو ہندوستان میں مسلمانوں کے بیانات اور تقریروں میں نظر آتی ہے۔ پورے مضمون میں کوئی ایک سطر بھی ایسی نہیں ہے جس سے یہ اندازہ ہو کہ مضمون نگار نے اس تجربہ سے کوئی سبق نکالا ہو۔ میں نے اس احتجاجی رپورٹ کو پڑھا تو میری زبان سے نکلا۔ پھر تو پاکستانی لیڈروں کو اپنا پاکستان آسمان میں بنانا چاہئے تھا۔
۲۴ مارچ ۱۹۹۰ء کی شام کو پی آئی اے کی فلائٹ ۲۹۲ کے ذریعہ دہلی کے لئے روانگی ہوئی۔ کراچی ایئرپورٹ پر بہت سے مسلمان نظر آئے جو عمرہ کرنے جارہے تھے۔ ان کے جسم پر صرف دوغیر سلے ہوئے کپڑے تھے جن کو احرام کہا جاتا ہے۔ ایک نیچے تہمد کی طرح، دوسرا اوپر چادر کی طرح۔ یہ عین وہی کپڑا تھا جو ہندوؤں کے مذہبی لوگ پہنتے ہیں۔ فرق صرف یہ تھا کہ مسلم کپڑے کا رنگ سفید تھا اور ہندو کپڑے کا رنگ زرد ہوتا ہے۔ ایئرپورٹ کا مسلم عملہ ان احرام پوشوں کو ’بابا‘ کہتا تھا اور آجا ئیں بابا‘ کے لفظوں میں انھیں پکار رہا تھا۔
میں نے سوچا کہ ہندو مذہب اور مسلم مذہب میں اگر کچھ اختلاف کی باتیں ہیں تو اس کے ساتھ ان میں کچھ اتفاق کی باتیں بھی ہیں۔ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ آپس کے تعلقات میں ”کلمۂ سواء“ کو بنیاد بنایا جائے۔ یعنی اختلاف کو سنجیدہ غور وفکر کے خانہ میں رکھ کر اتفاق کو عمومی تعلق کی بنیاد بنایا جائے۔ فکری اختلاف کے باو جود عملی موافقت کی یہی وہ اصول ہے جس کو رواداری
‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues