سفرنامہ ۔ قسط ۳
الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۴۳
کہا جاتا ہے، اور مشترک سماج میں رواداری ہی کامیاب زندگی کا واحد رستہ ہے۔ کراچی سے جہاز کا وقت ۶ بجے تھا۔ ابتدائی طور پر ایئر پورٹ نے اطلاع دی تھی کہ جہاز اپنے ٹھیک وقت پر روانہ ہوگا۔ مگر آخر وقت میں کسی نامعلوم سبب سے اس کی روانگی ملتوی ہوگئی۔ اس قسم کا انتظار بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ چنانچہ مجھ کو سخت جھٹکا لگا۔ اضمحلال کی کیفیت طاری ہوگئی۔ اس کے بعد ذہن اگلی دنیا کی طرف منتقل ہوگیا۔ دنیا کے دکھ کو سوچ کر آخرت کا دکھ یاد آنے لگا۔ دل نے کہا : خدا اپنے اس عاجز بندے پر رحم فرمائیے۔ کاش مجھے بخش دیا جائے ، ۔ کاش دنیا کا ستایا ہوا آخرت میں نہ ستایا جائے۔
۲۴ مارچ ۱۹۹۰ کی شام کو دہلی ایئرپورٹ پر اترا۔ دل نے کہا کہ خدایا آپ نے ایک سفر کرایا اور خیریت کے ساتھ واپس گھر پہنچادیا۔ اسی طرح آخرت سے دنیا میں آنا بھی ایک سفر ہے ۔ اس سفر کو بھی خیریت کے ساتھ پورا فرمائیے اور آخرت کی منزل پر اپنی رحمتوں کے ساتھ پہنچادیجئے۔ حسب معمول میں گرین چینل سے گزر کر باہر جانے لگا۔ دروازہ پر "گیٹ مین" نے روکا۔ اور مجھ سے پوچھ گچھ کرنے لگا۔ میں نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ خاموشی کے ساتھ دروازہ پر کھڑا ہوگیا۔ اتنے میں کسٹم آفیسر نے دیکھ لیا کہ گیٹ مین مجھ سے غیر ضروری قسم کی پوچھ گچھ کر رہا ہے۔ اس نے دور ہی سے کہا: ”با باجی کو جانے دو۔ گیٹ مین نے کہا کہ جب صاحب کہہ رہے ہیں تو آپ جائیے۔ باہر نکلا تو ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ ایک صاحب مجھ سے لپٹ کر بے اختیار رونے لگے۔ وہ دیر تک کچھ کہے بغیر روتے رہے۔ مولانا انیس لقمان ندوی اور ڈاکٹر ثانی انھیں وہاں جو میری آمد کی وجہ سے ایئر پورٹ پر آئے تھے، انھوں نے بتایا کہ ہم لوگ ایئر پورٹ پر انتظار میں بیٹھے تھے۔ الالرسالہ اپریل ۱۹۹۰ ہمارے ہاتھ میں تھا۔ اس کو دیکھ کر مذکورہ صاحب ہماری طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ کیا یہ تازہ رسالہ ہے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے بیگ سے ”اسلامی زندگی“ نکالی اور کہا کہ راستہ میں پڑھنے کے لئے میں نے اس کو اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔ معلوم ہوا کہ وہ جودھپور کے جناب محمد خالد صاحب ہیں وہ چار سال سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں۔ ان کے بھائی آج سعودی عرب سے آنے والے تھے۔ اس کی وجہ سے وہ ایئر پورٹ آئے ہوئے تھے۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں اللہ کے بہت سے بندے ہیں جو راقم الحروف سے اس قسم کا
‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues