Al-Risala · August 1990 · page 47

خبر نامه اسلامی مرکز ۴۲

الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۴۷

کئی نئی کتابیں زیر تیاری ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب حدیث پر ہے، دوسری کتاب سیرت پر ، اور تیسری کتاب دورِ جدید میں اسلام کی دعوت کے امکانات پر۔

ایک صاحب نے بتایا کہ میں غیر مسلموں کے درمیان رہتا ہوں۔ وہ اکثر اسلام کے بارہ میں سوال کرتے ہیں۔ ان کا جواب دینے کے لئے میں نے مرکز کی کتابوں کو بہت زیادہ مفید پایا ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک تعلیم یافتہ غیر مسلم کو اسلامی جہاد کے اوپر اعتراض تھا۔ میں نے ان کو ایک مشہور مصنف کی کتاب دی جو جہاد فی سبیل اللہ کے نام سے چھپی ہے۔ اس کو پڑھ کر اس غیر مسلم کی غلط فہمی میں اور زیادہ اضافہ ہو گیا۔ اس نے کہا کہ اس کتاب کے مطابق تو اسلام کا مقصد تمام قوموں سے لڑ کر عالمی اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ پھر تو اسلام ایک ایمپریلزم ہے۔ اس کے بعد میں نے الرسالہ کے مضامین کے ذریعہ انھیں سمجھایا تو وہ مطمئن ہوگئے۔

سلطان احمد رام جی (ہونڈرہ ،۱۳ جون ۱۹۹۰ء کو مرکز میں آئے)۔ انھوں نے بتایا کہ ”میں کئی سال سے الرسالہ پڑھ رہا ہوں اور پانچ پرچہ کی ایجنسی بھی چلاتا ہوں۔ میرے پاس کوئی بڑی ڈگری نہیں۔ مگر الرسالہ میرے لئے سب سے بڑا گائیڈ ہے۔ الرسالہ پڑھنا ہر ایک کے لئے مفید ہے۔ الرسالہ پڑھنا ہماری خوراک ہے۔ یہ الرسالہ کی تعلیم کا طفیل ہے کہ میں فساد سے دور رہ کر اپنے بچوں کو پڑھارہا ہوں۔ ۱۹۸۹ میں میرا لڑکا دسویں درجہ (سائنس گروپ) میں پورے بنگال میں فرسٹ آیا ہے۔ بھٹو نے کہا تھا کہ گھاس کھاؤ مگر ایٹم بم بناؤ۔ میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ گھاس کھاؤ مگر بچوں کو پڑھاؤ۔ الرسالہ مسلمانوں میں برداشت پیدا کر رہا ہے اور برداشت ہی میں ساری ترقی ہے: اس طرح کے ہزاروں لوگ ہیں جو الرسالہ سے تعمیری فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔

عادل آباد میں ایک ہندو پوسٹ ماسٹر وائی کے رام لوب ہیں۔ وہ اردو جانتے ہیں۔ چنانچہ وہ الرسالہ کو باقاعدہ خرید کر پڑھتے ہیں۔ اس کے علاوہ مرکز کی کئی کتابیں پڑھ چکے ہیں۔ وہ الرسالہ کے مشن سے پوری طرح اتفاق کرتے ہیں۔ اس طرح کے اور بہت سے غیر مسلم صاحبان ہیں جو پابندی کے ساتھ الرسالہ اردو یا انگریزی کا ماہ بماہ مطالعہ کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues

Printed page