خبر نامه اسلامی مرکز ۴۲
الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۴۶
مولا نا اکبر الدین قاسمی (حیدر آباد) لکھتے ہیں: دار العلوم سبیل السلام (حیدر آباد )جو ایک دینی عربی اقامتی درس گاہ ہے جہاں دورہ حدیث کے علاوہ متخصص فی الدعوۃ جیسے شعبے قائم ہیں۔ اس درس گاہ کے علیا جماعتوں کے نصاب تعلیم میں خارجی مطالعے کے طور پر طلبہ کے لئے مولانا وحید الدین خاں کی کتاب " مذہب اور جدید چیلنج" کو شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح ہندوستان کے دینی ادارہ جات کے نصاب تعلیم میں مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کتابوں کے شمول کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جو عرب ممالک کی جامعات میں پہلے سے موجود ہے۔ ڈاکٹر انور عباس صاحب نے بتایا کہ وہ ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ وہاں ان کی ملاقات تین انگریزوں سے ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے ان سے اسلام پر گفتگو کی اور پھر ان کا پتہ لیا تا کہ ان کے نام الرساله انگریزی اور اسلامی مرکز کی انگریزی کتابیں بھیج سکیں ۔ اس طرح کی مثالیں کثرت سے سامنے آئی ہیں۔ ان واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ انگریزی اور مرکز کی انگریزی کتابوں نے لوگوں کے اندر ایک نیا دعوتی اعتماد پیدا کیا ہے۔ وہ مغربی لوگوں سے یا جدید تعلیم یافتہ اصحاب سے دعوتی ملاقات کرتے ہیں اور ان کو الرسالہ انگریزی یا مرکز کی انگریزی مطبوعات پورے اعتماد کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔
عبید اللہ احمد صاحب (محبوب نگر) عرصہ سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ الرسالہ کا ایک خاص فائدہ یہ ہے کہ نئے ذہن کے لوگوں کے سامنے اسلام کو پیش کرنے میں بہت مدد ملتی ہے۔ مثلاً انھوں نے بتایا کہ ان کی ملاقات ایک امریکن نوجوان سے ہوئی ۔ اس نے اسلام کے بارہ میں کچھ نئے قسم کے سوالات کئے۔ عبید اللہ صاحب نے الرساله کے بعض مضامین کی مدد سے اس کا جواب دیا۔ وہ متاثرہ ہو گیا اور اسلامی مرکز میں اگر انگریزی الرسالہ اور مرکز کی کچھ انگریزی مطبوعات اپنے لئے حاصل کیں۔
الرسالہ کا تعمیری فکر تیزی سے عوام و خواص کے درمیان پھیل رہا ہے۔ لوگوں کے خیالات کی اصلاح ہورہی ہے۔ اپنے اپنے انداز میں لوگوں نے الرسالہ کی بات کو دہرانا شروع کر دیا ہے ۔ مثال کے طور پر ہفت روزہ نقیب (۴ جون ۱۹۹۰) کے ایک مضمون کا عنوان ہے : تبدیلی نظام یا تبدیلی قلب ۔ اس طرح اکثر مقررین و محررین الرسالہ کی بولی بولنے لگے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues