Al-Risala · September 1990 · page 4

نظریہ کی فوقیت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴

نظریہ کی فوقیت

امریکہ کے ایک ادارہ نے اپنے جائزہ (ٹائمز آف انڈیا اکتوبر (۱۹۸۹) میں پایا ہے کہ ان کے سوال نامہ کا جواب دینے والے امریکیوں میں ۶۳ فی صد ایسے لوگ تھے جن کا خیال تھا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کے لیے سب سے بڑا چیلنج اب سوویت یونین کا فوجی خطرہ نہیں ہے بلکہ سب سے بڑا چیلنج وہ اقتصادی خطرہ ہے جو جاپان جیسے ملکوں کی طرف سے پیش آرہا ہے :

A recent survey by the American Insight Group of Cambridge (Mass) found that 63 per cent of their respondents felt that the biggest foreign policy challenge is no longer a military threat from the Soviet Union, an economic threat from countries like Japan. مگر دولت اور طاقت کا اتنا بڑا ذخیرہ جمع کر لینے کے باوجود جاپان عالمی سطح پر وہ اہمیت حاصل نہ کر سکا جو بظاہر اسے حاصل کرنا چاہیے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جاپان کے پاس اقتصادی طاقت ہے مگر جاپان کے پاس نظریہ نہیں۔ یہی بات ہے جو امریکی بینکر مسٹر مرفی (W. Taggart Murphey) نے اس طرح کہی کہ جاپان ایک ایسی سوسائٹی ہے جس کی حیثیت طاقت بغیر مقصد (Power without purpose) کی ہے۔ جاپان کے پاس دنیا کو دینے کے لیے کوئی چیز نہیں، سوا اپنے بارہ میں انوکھے پن کے ایک تصور کے :

Japan has nothign to offer the world - only the idea of its uniqueness. سیاسی طاقت یا فوجی طاقت بظاہر بہت بڑی چیز معلوم ہوتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نظریہ کی طاقت اس سے بھی زیادہ بڑی ہے۔ مادی طاقت نظریہ کے بغیر بے حقیقت ہے۔ جب کہ نظریہ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ مادی طاقت کے بغیر بھی ناقابل تسخیر طاقت کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس گروہ کے پاس ایک نظریہ ہو۔ جو انسانوں کو ایک اعلیٰ مقصد کا تصور دے سکتا ہو۔ وہ سب سے بڑی چیز کا مالک ہے ۔ وہ خود اپنی بنیاد پر کھڑا ہوسکتا ہے ، وہ ہر چیلنج کا مقابلہ کر کے آگے بڑھ سکتا ہے۔ نظریہ دوسری چیزوں پر قیادت کرتا ہے ، دوسری چیزیں نظریہ کے اوپر قائد نہیں بن سکتیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues

Printed page