Al-Risala · September 1990 · page 5

عمل کا رخ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۵

عمل کا رخ

لندن کی لجنة الاقليات الاسلامیہ نے بتایا ہے کہ مختلف ملکوں میں جو مسلم اقلیتیں آباد ہیں، ان کی مجموعی تعداد ۷۰ ملین ہے ۔ اس طرح ساری دنیا کی کل مسلم آبادی کا ۴۰ فی صد حصہ مسلم اقلیتوں پر مشتمل ہے (صفحہ ۲)

جامعہ ازہر قاہرہ میں ایک اسلامی کانفرنس ہوئی۔ اس موقع پر تقریر کرنے والوں میں دکتور عبد الصبور مرزوق بھی تھے ۔ انھوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ مسلم اقلیت کے ملکوں کے مسلمان اپنے ملک کے اکثریتی فرقہ کی جارحیت کا شکار ہورہے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے ہاتھوں موت سے دوچار ہونے والے مسلمانوں کی تعداد ۳۰ ملین تک پہنچ چکی ہے۔ انھوں نے مسلم ملکوں کے وزراء خارجہ سے اپیل کی کہ وہ مسلم اقلیتوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں (صفحہ ۱) اخبار العالم الاسلامی، ۲۸ رجب ۱۴۰۹ھ ، ۶ مارچ ۱۹۸۹ یہ کسی ایک شخص کی بات نہیں۔ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم رہنما ایک یا دوسری شکل میں اسی بات کو دہرارہے ہیں۔ مگر اس معاملہ میں ہمارے رہنما اب تک جو کچھ کرتے رہے ہیں وہ صرف ایک ہے ۔ اکثریتی فرقہ یا غیر مسلم حکومت کے خلاف فریاد اور احتجاج کرنا۔ مگر یہ معاملہ اس سے زیادہ سنگین ہے ۔ یہ ہم کو غیر مسلم طاقت کے خلاف احتجاج سے زیادہ رجوع الی اللہ کی دعوت دیتا ہے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ایک چھوٹی جماعت بھی بڑی جماعت پر غالب آجاتی ہے، اللہ کے اذن سے ، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (کم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة باذن الله والله مع الصابرین، البقره ۲۴۹) یہ آیت بتاتی ہے کہ مسلمانوں کے کسی گروہ کو اگر اپنے ماحول میں غلبہ حاصل نہ ہو تو انھیں یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ اذن اللہ سے محروم ہو گئے ہیں۔ ایسی حالت میں انھیں‌فَفِرُّوٓاْ الى ٱللَّهِۖ (الذاريات (۵۰) کے حکم خداوندی پر عمل کرنا چاہیے ۔ انھیں اللہ کی طرف دوڑنا چاہیے ، نہ کہ وہ غیر مسلم جماعتوں یا غیر مسلم حکمرانوں کے خلاف احتجاج میں مشغول ہو کر بے فائدہ طور پر اپنا وقت اور اپنی طاقت ضائع کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues

Printed page