رہے تھے۔ وہاں ایک طرف کوڑے کا ڈھیر
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۷
رہے تھے۔ وہاں ایک طرف کوڑے کا ڈھیر
انھیں ایک پڑی ہوئی چیز ملی۔ یہ کوئی زہریلی چیز تھی۔
کے نتیجہ میں دو بچے فوراً ہی مر گئے ، اور آٹھ بچوں کو تشویشناک داخل کرنا پڑا۔ یہ بچے دو سال سے پانچ سال تک کے تھے۔
ٹائمس آف انڈیا (۷ جنوری ۱۹۹۰ ) نے صفحہ اول پر اس کی خبر دیتے ہوئے درمیان جو نفرت پیدا میں سے ایک نے وہاں ایک چھوٹا پیکٹ پایا۔ اس میں تقریباً ڈیڑھ سو گرام کوئی سفید سی مس نما زہر ہوگی، تھا۔ انھوں نے غلطی سے اس کو شکر سمجھا اور آپس میں تقسیم کر کے کھانے لگے۔ کھانے کے بعد ان کے ہونٹ نیلے پڑ گئے :
One of them found a small packet containing about 150 gm of white, powdery substance. They mistook it for sugar and distributed it among themselves. Within minuters of consuming it, their lips turned blue. مادی خوراک کے اعتبار سے یہ چند بچوں کا واقعہ ہے۔ لیکن اخلاقی خوراک کے اعتبار سے دیکھیئے تو آج یہی تمام انسانوں کا واقعہ ہے۔ آج کی دنیا میں تمام انسان ایسی اخلاقی غذائیں کھا رہے ہیں جو ان کی انسانیت کے لیے زہر ہیں، جو ان کو ابدی ہلاکت سے دوچار کرنے والی ہیں۔ جھوٹ، بدکاری ، رشوت ، غرور، حسد، الزام تراشی ، ظلم، غصب ، بد دیانتی، وعده خلافی ، بدخوایی بے اصولی، بد معاملگی ، انانیت ، بے اعترافی، غلطی نہ ماننا، احسان فراموشی، خود غرضی، انتقام ، اشتعال انگیزی اپنے لیے ایک چیز پسند کرنا اور دوسرے کے لیے کچھ اور پسند کرنا ، یہ تمام چیزیں اخلاقی معنوں میں زہریلی غذائیں ہیں۔ آج تمام لوگ ان چیزوں کو میٹھی شکر سمجھ کر کھا رہے ہیں۔ مگر وہ وقت زیادہ دور نہیں جب ان کا زہریلا پن ظاہر ہوگا۔ اور پھر انسان اپنے آپ کو اس حال میں پائے گا کہ وہاں نہ کوئی اس کی فریاد سننے والا ہوگا اور نہ کوئی اس کا علاج کرنے والا۔
صحیح تدبیر ہے جس کو اختیار کرنا عملی طور پر ممکن ہو۔ نا ممکن تدبیر کو تدبیر نہیں کہا جا سکتا۔ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے آزمودہ تدبیر صرف ایک ہے اور وہی ہے جس کو رواداری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یعنی اختلاف کو گوارہ کرتے ہوئے متحدہ زندگی گزارنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues