اخلاق کا پھل
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۶
اخلاق کا پھل
بدرالدین احمد (پیدائش ۱۹۳۸) مراد آباد کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے مراد آباد کے فرقہ وارانہ فساد کے بارہ میں کئی سبق آموز واقعات بتائے۔ یہ فساد ۱۳ اگست ۱۹۸۰ کو شروع ہوا تھا اور رک رک کر اگلے مہینہ تک جاری رہا۔
فساد کے دوران کرفیو لگا ہوا تھا۔ ہر طرف ابتر حالات تھے۔ لوگوں کے گھروں میں کھانے پینے کی چیزیں ختم ہوگئی تھیں۔ بدرالدین صاحب نے بتایا کہ اس زمانہ میں ہم لوگوں کو دودھ نہیں ملتا تھا۔ اس لیے ہم لوگ بغیر دودھ کی چائے گرم پانی کرکے پی لیا کرتے تھے۔
پولیس کے ایک افسر مسٹر شرما نے ایک دکان سے پیتل کے کچھ کھلونے (شو پیس) خریدے۔ اس کو ان کھلونوں پر پالش کروانا تھا۔ وہ پالش کے لیے بدر الدین احمد صاحب کے یہاں آیا۔ انھوں نے کھلونوں پر پالش کر دی۔ مگر اس کا کوئی پیسہ نہیں لیا۔
اس اخلاق کا نتیجہ یہ ہوا کہ پولیس افسر جب روزانہ راؤنڈ پر نکلتا تو بدر الدین صاحب کے یہاں اپنی گاڑی روک کر اترتا اور حال پوچھتا کہ کوئی پریشانی تو نہیں ہے ۔ ہماری کوئی ضرورت ہو تو بتائیے ۔ اس طرح وہ روزانہ کم از کم ایک بار آتار ہا۔
ایک روز مسٹر شرما آئے تو بدر الدین صاحب اپنے چھوٹے بچے (نجم الدین احمد) کو گود میں لیے ہوئے تھے۔ مسٹر شرما نے پوچھا کہ یہ بچہ تو دودھ پیتا ہوگا ۔ بدر الدین صاحب نے کہا کہ ہاں۔ مسٹر شرما نے کہا کہ پھر آپ کو دودھ ملنے میں تو کوئی پریشانی نہیں۔ بدر الدین صاحب نے کہا کہ پریشانی تو ہے، اس لیے کہ کرفیو لگا ہوا ہے ۔ اس کے بعد مسٹر شرما چلے گئے۔ اگلے دن آئے تو ان کے ساتھ گلیکسو ملک کا دو ڈبہ بھی کھت تھا۔ انھوں نے یہ دونوں ڈبہ بدر الدین صاحب کو دیتے ہوئے کہا " یہ آپ کے بچے کے لیے میری طرف سے تحفہ ہے"۔
اخلاق کے اندر اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ تسخیری طاقت رکھی ہے۔ یہ طاقت اتنی زیادہ ہے کہ وہ بد نام پولیس کو بھی مسخر کرلیتی ہے ۔ اخلاق ایک ایسا خاموش ہتھیار ہے جو ہر آدمی پر کارگر ثابت ہوتا ہے ، حتی کہ کٹر دشمن کے اوپر بھی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues