Islam in 21st century
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۴۰
بات کرنے والوں کو وہ اکثر غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہیں۔ خواہ جنگ جو افراد نے انھیں ہر بادی کے سوا کچھ اور نہ دیا ہو۔
ہندوستان جیسے ملکوں میں یہ مسئلہ ہے کہ ملک کی معیشت کو چلانے کے لیے پیسہ کہاں سے لایا جائے۔ لیبیا میں معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے الفاظ میں، لیبیا کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ تیل سے ملنے والی بے پناہ دولت کو کس طرح بہتر طور پر قوم کی ترقی کے لیے خرچ کیا جائے: The main problem of the oil boom is how best to use the large sums of money available to promote the well-being of the nation as a whole (10/882). رابطہ عالم اسلامی کے تحت مکہ مکرمہ سے ایک انگریزی پرچہ نکلتا ہے جس کا نام مسلم ورلڈ لیگ جرنل ہے۔ اس کے شمارہ مارچ ۔ اپریل ۱۹۸۹ میں چار صفحہ کا ایک با تصویر مضمون چھپا ہے ۔ اس کا عنوان ہے: Libya's New Oil Era اس مضمون میں ایک بڑی سبق آموز بات کہی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے لیبیا پر تجارتی پابندیاں لگائیں اور اس کے تیل کے کارخانوں سے اپنے آدمیوں کو واپس بلایا۔ بظاہر اس کا مقصد یہ تھا کہ لیبیا کی اقتصادیات تباہ ہو جائیں۔ مگر نتیجہ برعکس صورت میں برآمد ہوا۔ خود امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لیبیا سے امریکی کمپنیوں کی واپسی کا انھیں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بلکہ ان کی آمدنی میں اور اضافہ ہو گیا۔ مشکل آسانی میں تبدیل ہو گئی۔
مسلم ورلڈ لیگ جرنل کے مذکورہ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ امریکی کمپنیوں کی واپسی سے لیبیا کو مختلف فائدے پہنچے ۔ اس سے انھیں موقع ملا کہ وہ ضروری ٹکنالوجی کو خود حاصل کریں، اس سے ان کی حب الوطنی اور محنت میں اضافہ ہوا۔ انھوں نے لیبیا کی تیل کی صنعت کو مکمل طور پر لیبی بنالیا۔ اس کے ذریعہ سے لیبیا میں تیل کی صنعت کا ایک نیا دور آگیا (صفحہ ۶۱)
سعودی عرب کے ”فیصل انعام“ کی طرح لیبیا میں سالانہ "قذافی انعام ۱۹۸۹ سے شروع کیا گیا ہے ۔ لیبی حکومت نے اس مقصد کے لیے دس ملین ڈالر کا فنڈ سوئزرلینڈ کے ایک بینک میں جمع کیا ہے۔ مئی ۱۹۸۹ میں اس کے پہلے انعام کا اعلان کیا گیا۔ یہ انعام ساؤتھ افریقہ کے نیلسن منڈیلا (Nelson Mandela)
‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues