Islam in 21st century
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۳۹
کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو عملی طور پر اس کی صرف ایک ہی ممکن صورت ہے۔ وہ یہ کہ تمام ملک سعودی عرب کی علامتی قیادت کو تسلیم کر لیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے پاس مکہ مدینہ" مسلمانوں کے پاس عالمی اتحاد کی یہی ابدی بنیاد ہے۔ مذہبی سطح پر آج بھی یہی چیز ان کو متحدہ ملت کا شعور دیے ہوئے ہے ، اسی طرح یہی وہ چیز ہے جو سیاسی سطح پر ان کے لئے اتحاد کی ممکن بنیاد بن سکتی ہے ۔ اٹلی نے ۱۹۱۱ میں طرابلس پر حملہ کیا۔ وہ ۱۹۴۳ تک اس پر قابض رہے۔ اس وقت یہاں ترکوں کی حکومت تھی۔ ایچ جی ویلز (H.G. Wells) نے اپنی کتاب "آؤٹ لائن آف ہسٹری" میں لکھا ہے کہ اٹلی کے سامراجیوں نے اپنے ہم وطنوں کو ابھار اکه وہ مزینی کو بھول جائیں اور جولیس سیزر کو یاد رکھیں :
The Italian imperialists exhorted their countrymen to forget Mazzini and remember Julius Caesar (p. 1058). جی مزینی (Giuseppe Mazzini) ۱۸۰۵ میں پیدا ہوا، اور ۱۸۷۲ میں اس کی وفات ہوئی ۔ وہ اٹلی کا مشہور قومی ریفارمر تھا۔ وہ ہرل نیشنلزم کا علم بردار تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ قوموں کے درمیان ہتھیار کا استعمال بند ہو جانا چاہئے اور ہمشیری اقوام (Sisterhood of nations) کے اصول پر باہمی تعلق قائم ہونا چاہئے (14/692)
مگر اٹلی کے پرجوش حکمراں اپنے حال کے لیڈر کو بھول گئے۔ انھوں نے دو ہزار سال پہلے کے حکمراں جولیس سیزر (Julius Caesar) کی سنت پر چلنا چاہا۔ جولیس سیزر ۱۰۰ ق م میں روم میں پیدا ہوا ، اور ۴۴ ق م میں اس کو قتل کر دیا گیا۔ اس نے رومی سلطنت کی توسیع کے لئے مختلف ملکوں پر حملے کئے۔ اور بالآخر ایک کمزور روم چھوڑ کر دنیا سے چلا گیا۔ (3/579)
یہی اکثر قوموں کا حال ہے۔ انھیں اپنے جنگ جو ہیرو زیادہ پسند آتے ہیں ۔ اصلاحی اور تعمیری
‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues