یہ فرق کیوں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۱۰
یہ فرق کیوں
کلیم اللہ خاں ایم ایس سی (پیدائش ۱۹۵۱) اور مشتاق احمد ریشی انجینئر (پیدائش ۱۹۵۱) دونوں سرینگر (کشمیر) کے رہنے والے ہیں۔ دسمبر کے نصف آخر میں وہ دہلی آئے۔ ۲۶ دسمبر ۱۹۸۹ء کو ان سے اسلامی مرکز میں ملاقات ہوئی۔ ان سے میں نے پوچھا کہ دہلی کے بارے میں اپنے کچھ تجربات بتائیے ۔
انھوں نے کہا کہ ہم لوگ کھاری باؤلی کے علاقہ میں گئے ۔ وہاں شام ہوگئی۔ ہمیں کسی کو ٹیلی فون کرنا تھا۔ ہم کرانہ کے ایک دکاندار سے ملے۔ یہ ہندو تھا۔ اس کا دکان بند کرنے کا وقت ہو گیا تھا اور وہ اپنی دکان کی شٹر گرارہا تھا۔ ہم نے کہا کہ ہمیں ایک ٹیلی فون کرنا ہے۔ وہ فوراً رک گیا اور کہا کہ آئیے کر لیجئے ۔
ہم نے وہاں سے ٹیلی فون کیا۔ اتفاق سے بات لمبی ہو گئی ۔ بات کر لینے کے بعد ہم نے جیب سے نوٹ نکالا اور دکاندار کو دیتے ہوئے کہا کہ معاف کیجئے ، ہم نے آپ کا بہت وقت لیا۔ اس ہندو دکاندار نے پیسے نہیں لیے۔ اس نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ بھائی صاحب ، یہ تو آپ کی مہربانی ہے کہ آپ نے ہم کو خدمت کا موقع دیا۔ آپ کو اور ٹیلی فون کرنا ہے تو آپ اور بھی کر لیں۔ پیسہ دے کر ہمیں شرمندہ نہ کریں ۔
اس کے بعد انھوں نے دہلی کے مسلمانوں کے بارے میں اپنے کچھ تجربات بتائے جو اس کے بالکل برعکس تھے۔ دوسری قوم کے افراد سے اگر انھیں میٹھے بول کا تجربہ ہوا تھا تو مسلمانوں سے انھیں کڑوے بول کا تجربہ ہوا۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ کوئی وقتی یا اتفاقی بات نہیں ہے یہی ہمارا مستقل تجربہ ہے ۔
مشتاق احمد ریشی صاحب پہل گام میں ٹورسٹ ہٹ چلاتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں انھیں مسلمانوں اور غیر مسلموں ، دونوں سے بار بار سابقہ پیش آتا ہے۔ اسی طرح کلیم اللہ خاں صاحب کا کشمیری شال کا کاروبار ہے۔ انھیں بھی برابر دونوں فرقہ کے لوگوں سے سابقہ پڑتا رہتا ہے۔ دونوں نے کہا کہ ہمارا عام تجربہ ہے کہ دوسری قوم کے لوگ نرم بات کرنے والے اور
‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues