یہ فرق کیوں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۱۱
خوش اخلاق ہوتے ہیں ۔ اس کے برعکس مسلمان گرم گفتار ہوتا ہے اور بہت جلد تشدد پر اتر آتا ہے ۔ وہ اپنے سوا کسی اور کا لحاظ کرنا نہیں جانتا۔ اس سلسلہ میں متعدد واقعات بتانے کے بعد انھوں نے کہا کہ آخر مسلمانوں اور غیرمسلموں میں یہ فرق کیوں ہے ۔
میں نے کہا کہ یہ تجربہ صرف آپ کا نہیں ہے ۔ اس معاملہ میں بہت سے لوگوں کا تجربہ یہی ہے ۔ سنجیدہ لوگ اکثر اس بارہ میں سوال کرتے رہتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں جو بات میری سمجھ میں آئی ہے، وہ یہ ہے کہ اس فرق کا سبب وہ مزاجی فرق ہے جو دونوں فرقوں کی الگ الگ نفسیات کی وجہ سے دونوں میں پیدا ہوا ہے ۔
اصل یہ ہے کہ یہ فرق مسلمان اور غیرمسلمان کا نہیں ہے بلکہ یہ موجودہ مسلمان اور موجودہ غیرمسلمان کا فرق ہے ۔ موجودہ مسلمانوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ایک زوال یافتہ قوم ہیں۔ موجودہ مسلمانوں کی نفسیات اُن کے اِس بگڑے ہوئے عقیدہ کے تحت بنی ہے کہ ہم خدا کی خاص امت ہیں، اس لیے ہم بہرحال نجات پائیں گے ، خواہ ہم بے عمل یا بد عمل ہی کیوں نہ ہو ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ ہم پائیں گے ، خواہ ہم کچھ نہ کریں ۔ ہم کامیاب ہوں گے، خواہ ہم نے اس کے لیے ضروری کوشش نہ کی ہو ۔
دوسری قوم کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے ۔ ان کا مقصد ، مادی فائدہ حاصل کرنا یا مادی مواقع کو استعمال کرنا ہے۔ یہی وہ مقصد ہے جس کے تحت ان کی نفسیات بنی ہے۔ مادی دنیا میں نتیجہ ہمیشہ عمل کی بنیاد پر ملتا ہے ۔ یہاں ’’ عمل نہیں تو نتیجہ بھی نہیں ‘‘ کا اصول کار فرما ہے۔ سر فلپ سڈنی (Sir Philip Sidney) نے اسی بات کو ان لفظوں میں کہا کہ کوئی چیز بھی اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک اس کے لیے پوری پوری کوشش نہ کی جائے : Nothing is achieved before it be throughly attempted. یہ گویا دین مادیت کا کلمہ ہے ۔ اور اسی کلمہ پر یقین کی وجہ سے دوسری قوم کے آدمی کے اندر یہ مزاج بنتا ہے کہ میں کروں گا تب پاوں گا ، کیے بغیر مجھے کچھ ملنے والا نہیں۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ جھوٹے بھرم میں رہتا ہے ۔ وہ بیرونی حقیقت کی پروا کرنا نہیں جانتا۔ کیوں کہ اس کی مخصوص نفسیات اس کو بتا رہی ہوتی ہے کہ وہ بہر حال
‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues