منیجر۔ مکتبہ الرسالہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۱۳
سے بڑی دکان کس کی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہندو کی۔ میں نے کہا کہ جب بستی کے اندر زیادہ تر مسلمان آباد ہیں تو وہ لوگ دکان کیوں نہیں کرتے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کی بھی یہاں کئی دکانیں ہیں، مگر سب سے چلتی ہوئی دکان ہندو کی ہے۔ اس کے یہاں ہر وقت بھیڑ لگتی ہے۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پہلے میں خود مسلمان دکانداروں سے سودا خریدتا تھا۔ مگر ان کا معاملہ بہت خراب رہتا ہے۔ چنانچہ اب میں زیادہ تر ہندو دکان ہی سے ضروری سودا خریدتا ہوں۔ یہ کوئی استثنائی بات نہیں۔ آپ کہیں بھی مسلم دکاندار سے خریداری کا تجربہ کیجئے ۔ اس کے بعد آپ غیر مسلم دکاندار کے یہاں سودا خریدنے جائیے ۔ آپ دونوں میں کھلا ہوا فرق پائیں گے ۔ ایک کے یہاں آپ کو بے پروائی اور تلخ کلامی ملے گی ، اور دوسرے کے یہاں ہمدردی اور شیریں کلامی۔ یہی وہ فرق ہے جس نے تجارت میں مسلمانوں کو پیچھے اور غیرمسلموں کو آگے کر دیا ہے ۔
یہی فرق قومی اور اجتماعی سطح پر بھی پایا جاتا ہے ۔ ہندوؤں میں ایک طرف بال گنگادھر تلک ( ۱۹۲۰ - ۱۸۵۶) اٹھے جو آزادی کی تحریک کو تشدد کے انداز پر چلانا چاہتے تھے۔ دوسری طرف مہاتما گاندھی (۱۹۴۸ - ۱۸۶۹) تھے جو عدم تشدد کے طریقہ پر چل کر آزادی حاصل کرنے کی بات کرتے تھے۔ ہندو قوم نے تلک کو چھوڑ دیا اور گاندھی کو اپنا لیڈر بنا لیا۔ تذکیر القرآن جلد دوم ۔ ایک ضروری اعلان تذکیر القرآن جلد دوم (اشاعت ۱۹۸۷) کے بعض نسخوں میں بائنڈنگ کی غلطی کی وجہ سے صفحہ ۳۰۶ تا ۳۲۱ کی ترتیب بدل گئی ہے۔ جن حضرات کے پاس جلد دوم موجود ہے اگر اس کے مذکورہ صفحات میں ترتیب کی یہ غلطی ہو تو وہ اسے واپس بھیج کر دوسری نئی جلد منگوالیں۔
منیجر۔ مکتبہ الرسالہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues