یہ فرق کیوں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۱۲
کامیاب ہونے والا ہے، کوئی خارجی حقیقت اس کے مستقبل پر اثرانداز ہونے والی نہیں۔ اس کا پورا ماحول روزانہ اس کو یہی سبق دیتا رہتا ہے ۔
اس کے برعکس دوسری قوم کا آدمی ہمیشہ حقیقت پسندی کے انداز میں سوچتا ہے۔ اس کا مادی ذہن ہر وقت اس کو یہ بتاتا رہتا ہے کہ کامیابی کوئی اپنے آپ ملنے والی چیز نہیں۔ کامیابی اس کو صرف اس وقت ملے گی جب کہ خارجی اسباب کو اس نے اپنے موافقت بنایا ہو۔ اگر خارجی اسباب موافق نہ کریں تو وہ کامیاب ہونے والا بھی نہیں ۔
اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ مسلمان تخیل پسند بن گیا ہے اور دوسری قوم کا آدمی حقیقت پسند۔ ایک بے صبر ہے اور دوسرا صبر دار۔ ایک طاقت نہ ہونے کے باوجود لڑ پڑتا ہے اور دوسرا صرف اس وقت لڑتا ہے جب کہ اس کے پاس طاقت موجود ہو۔ ایک حالات کو جاننے کی فکر نہیں کرتا اور دوسرا حالات کو گہرائی سے جاننا اپنے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ ایک اپنے کام کا آغاز اقدام سے کرتا ہے اور دوسرا اپنے کام کا آغاز تیاری سے ۔
ایک کا حال یہ ہے کہ وہ زمانہ کی تبدیلیوں سے بے پروا رہتا ہے اور دوسرا زمانہ کی تبدیلیوں کو جان کر اس کے مطابق اپنا منصوبہ بناتا ہے۔ ایک بڑے بڑے الفاظ بول کر خوش ہوتا ہے اور اس کو بھی ایک کام سمجھتا ہے اور دوسرا عملی پہلوؤں کو اپنے موافق بنانے کو کام قرار دیتا ہے۔ ایک کے یہاں شاعری اور خطابت اور انشا پردازی کی دھوم ہے اور دوسرے کے یہاں سائنٹفک انداز اور سائنٹفک علوم پر توجہ دی جاتی ہے۔ ایک اکڑنے کو کمال سمجھتا ہے اور دوسرا جھک کر اپنا کام بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ موجودہ مسلمان کی نفسیات کا سرچشمہ اس کی اپنی گھڑی ہوئی خوش فہمیاں ہیں ، اور غیر مسلم نفسیات کا سرچشمہ اٹل مادی حقائق۔ اس نفسیاتی فرق نے ایک کو خود فریبی کی زمین پر کھڑا کر دیا ہے ، اور دوسرے کو حقیقت شناسی کی زمین پر۔ دونوں گروہوں کے مزاج کا یہ فرق اتنا واضح ہے کہ اس کو زندگی کے ہر شعبہ میں دیکھا جاسکتا ہے ، خواہ وہ انفرادی سطح کا معاملہ ہو یا اجتماعی سطح کا معاملہ۔ نظام الدین بستی (دہلی) کے ایک مسلمان سے میں نے پوچھا کہ بستی میں کتنے مسلمان ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ ۹۰ فی صد سے زیادہ ۔ میں نے کہا کہ بستی میں عام ضرورت کی چیزوں کی سب
‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues