ایک مشورہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۱۵
کیوں کہ یہ چیزیں ہندو ازم کے ایسے لازمی اجزاء ہیں جن کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ مسٹر گی لال جین اور دوسرے ہندو دانشوروں نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ ہندو احیا پرستوں کے پاس کوئی مثبت بنیاد نہیں جس پر وہ قوم کو کھڑا کر سکیں ۔ ان کے پاس صرف ایک منفی بنیاد (مسلم دشمنی) ہے جس پر وہ قوم کو کھڑا کر سکتے ہیں ۔ مگر وہ کوئی پسندیدہ بنیاد نہیں ۔ مسٹر جین نے بجا طور پر اس کو رد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جو چیز ممکن ہے وہ مطلوب نہیں، اور جو چیز مطلوب ہے وہ ممکن نہیں ۔
اس دو گونہ مشکل کا حل صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ ہندو مصلحین قومی طرزِ فکر کو چھوڑ کر حق پسندانہ طرز فکر کو اختیار کریں ۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ اس راستہ کو پالیں گے جس میں صداقت بھی ہو، اور جو ہر قسم کے تضادات سے خالی بھی ہو ۔
اس دنیا میں آدمی کے لیے دو راستے ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ تعصب کی زمین پر کھڑا ہو ۔ دوسرے یہ کہ وہ حقیقت پسندی کی زمین پر کھڑا ہو ۔ تعصب کی زمین وقتی طور پر کچھ لوگوں کو کھڑے ہونے کی زمین دے سکتی ہے ۔ مگر اس میں نہ پائیداری ہے اور نہ اس سے کوئی مسئلہ حل ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس حقیقت پسندی کی زمین میں پائیداری بھی ہے اور وہ ہر قسم کے تضادات سے پاک بھی ہے ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ تعصب اور تنگ نظری کے طریقے سے بچے اور حقیقت پسندی کی بنیاد پر اپنے مستقبل کی تعمیر کرے ، کیوں کہ بالآخر جس چیز کو کامیابی ملنے والی ہے وہ حقیقت پسندی ہے نہ کہ تعصب اور تنگ نظری ۔
امریکہ میں الرسالہ اور اسلامی مرکز کی کتابوں کے لئے مندرجہ ذیل پتہ پر رابطہ قائم کریں۔
Mr. Khaja Kaleemuddin 1439 Ocean Ave, Apt. 4C Brooklyn New York N.Y. 11230 U.S.A. Tel. 718-258 3455
‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues