کامیاب مقابلہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۱۶
کامیاب مقابلہ
مولاناثناء اللہ امرتسری (۱۹۲۸ء - ۱۸۶۸ء) اپنے وقت کے مشہوار مناظر تھے۔ ایک بار دہلی میں ان کا مناظرہ آریہ سماج کے ایک ہندو عالم سے ہوا۔ اس زمانہ میں مولانا ثناء اللہ کے ایک مخالف نے ان کے بارے میں ایک اشتہار شائع کیا تھا۔ اس اشتہار میں مولانا ثناء اللہ کی طرف کچھ ایسی باتیں منسوب کی گئی تھیں جس سے ان کا اسلام ہی مشکوک قرار پا رہا تھا۔
یہ اشتہار آریہ سماجی مناظر کو مل گیا۔ وہ عربی اور فارسی زبانیں جانتا تھا اور عقیدہ اور عمل کے بارہ میں علماء اسلام کے اختلافی مسائل سے بخوبی آگاہ تھا۔ اس نے مذکورہ اشتہار کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ دونوں فریق جب مناظرہ کے اسٹیج پر آئے تو آریہ سماجی مناظر نے پہلا کام یہ کیا کہ وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔ اس کے ہاتھ میں مذکورہ اشتہار تھا۔ اس اشتہار کو اس نے مجمع کے سامنے لہراتے ہوئے کہا :
حضرات، میں تو یہاں کسی مسلمان عالم دین سے مناظرہ کرنے کے لیے آیا ہوں۔ مگر مولا ناثناء اللہ امرتسری اس صف میں شامل نہیں۔ مولانا صاحب ایک انسان کی حیثیت سے میرے لیے قابلِ احترام ہیں۔ لیکن اس اشتہار کو دیکھیے۔ اس کے مطابق خود اسلامی جماعت کے لوگ ان کے اسلام کو تسلیم نہیں کرتے۔ پھر میں کیسے انہیں مسلمان سمجھوں اور اسلام کے بارہ میں ان سے مناظرہ کروں۔
مولانا شناء اللہ امرتسری نے اس پر کسی منفی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ وہ اطمینان کے ساتھ مسکراتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھے اور کہا۔ حضرات، میرے دوست نے ٹھیک کہا۔ مگر آپ سب جانتے ہیں کہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے کلمہ شہادت پڑھنا کافی ہے۔ کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہو جاتا ہے۔ میں آپ تمام حاضرین کو گواہ بنا کر آپ کے سامنے کلمہ شہادت پڑھتا ہوں اور اسلام قبول کرتا ہوں۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شريك له واشھد ان محمداً عبدہ ورسولہ۔ اب تو میرے اسلام میں کوئی شک نہیں رہا۔ آئیے، اب مناظرہ کیجیے۔
مولانا شناء اللہ امرتسری اگر اشتہار کے مضمون پر کلام کرتے اور اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے لگتے تو بات کبھی ختم نہ ہوتی۔ وہ عقیدہ و عمل کے پیچیدہ بحثوں میں الجھ کر رہ جاتے۔ ہندو مناظر اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا۔ مگر مذکورہ انداز اختیار کر کے انھوں نے ایک منٹ میں سارا مسئلہ ختم کر دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues