المطففین
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۱۸
کا دوسرے شخص سے مال یا جائیداد کا جھگڑا ہو۔ اس سے آپ بات کریں تو وہ پوری کہانی کو یک طرفہ انداز میں بتائے گا جس سے ثابت ہو کہ وہ حق پر ہے اور دوسرا شخص ناحق پر۔ یہی تططیف ہے جس (as it is) پرویل (خر ابی) کی خبر دی گئی ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ پورے معاملے کو جیسا ہے ویسا بیان کرے، خواہ وہ اپنے موافق ہو یا اپنے خلاف۔
یہی حال تمام اختلافی امور کا ہے۔ آدمی اگر دوسرے کی زیادتی کو بتائے اور اپنی زیادتی کا ذکر نہ کرے تو وہ مطفف ہے، اور مطفف کے لئے اللہ تعالی کے یہاں نہایت برے انجام کا اندیشہ ہے ۔ وہ اپنی یک طرفہ باتوں سے دنیا والوں کو دھوکے میں ڈال سکتا ہے ، مگر وہ خدا کو دھوکا نہیں دے سکتا۔
اس ذہنیت کا سب سے بڑا اظہار آج کل فرقہ وارانہ فساد کے معاملہ میں ہو رہا ہے۔ ہندوستان میں پچھلے پچاس برس سے ہندو مسلم فساد ہو رہے ہیں۔ ان فسادات کی تعداد ، چھوٹے اور بڑے واقعات کو ملاکر، ۵۰ ہزار سے کم نہیں ہوگی۔ ہر بارجب کہیں فساد ہوتا ہے تو مسلمانوں کی طرف سے اس کی رپورٹیں شائع کی جاتی ہیں۔ یہ نام نہاد رپورٹیں، تقریباً سب کی سب، تططیف کی مثال ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان رپورٹوں میں ہمیشہ فریق ثانی کی زیادتیوں کو بیان کیا جاتا ہے۔ فریق اول نے کیا کیا، اس کا ان رپورٹوں میں کوئی ذکر نہیں ہوتا۔
مثال کے طور پر ۲۴ اکتوبر ۱۹۱۹۸۹ کو ایک شہر میں فساد ہوا ۔ اس کی ابتدا یہاں سے ہوئی کہ ہندو فرقہ کے کچھ لوگ اپنا ایک مذہبی جلوس نکال رہے تھے۔ ان کے نقشہ کے مطابق جلوس کو ایک ایسی سڑک سے گزرنا تھا جس پر مسلم محلہ واقع تھا اور مسلمانوں کی مسجدیں تھیں۔ مسلمانوں نے روٹ بدلنے پر اصرار کیا۔ دوسری طرف ہندوؤں کا اصرار تھا کہ وہ اسی روٹ پر جائیں گے۔
اس واقعہ کے صرف ایک ماہ بعد، ۲۲ نومبر ۸۹ کو ملک کا جنرل الیکشن ہونے والا تھا۔ حکمراں پارٹی کو دونوں فرقہ کا ووٹ لینا تھا، اس لئے وہ نہ ہندوؤں کو ناراض کرنا چاہتی تھی اور نہ مسلمانوں کو۔ چنانچہ حکومت نے یہ انتظام کیا کہ جلوس کو پولیس کے خصوصی بندوبست کے تحت نکالا جائے۔ جلوس اس طرح چلتا ہوا مسلم محلہ والی سڑک پر پہنچا۔ بھاری تعداد میں پولیس کی موجودگی اس بات کی ضمانت تھی کہ جلوس کے لوگ خواہ الٹے قسم کے نعرے لگائیں مگر وہ مسلمانوں کے خلاف کوئی عملی تشدد
‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues