Al-Risala · September 1990 · page 17

المطففین

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۱۷

المطففین

قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ تم ناپ اور تول کو پوراکر و انصاف کے ساتھ ، اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد کرتے نہ پھرو ( ہود ۸۵ ) جب تم ناپ کرو تو پورا ناپو اور ٹھیک ترازو سے تول کر دو ۔ یہ بہتر طریقہ ہے اور اس کا انجام اچھا ہے ( بنی اسرائیل ۳۵ ) تم لوگ پورا پورا ۔ ناپو اور نقصان دینے والوں میں سے نہ بنو۔ اور سیدھی ترازو سے تولو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ (الشعراء ۸۳ - ۱۸۱) اللہ نے آسمان کو اونچا کیا اور اس نے ترازو رکھ دی کہ تم تولنے میں زیادتی نہ کرو ، اور انصاف کے ساتھ سیدھی ترازو سے تولو اور تول میں نہ گھٹا و ( الرحمن ۷ - ۹ )

ان آیتوں میں جس چیز سے روکا گیا ہے، وہ قرآن کی زبان میں تطفیف ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۸۳ میں اس کی بابت زیادہ سخت الفاظ میں حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے ، جن کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں ، اور جب لوگوں کو ناپ کر یا تول کر دیں تو انہیں گھٹا کر دیں۔ کیا ایسا کرنے والے یہ نہیں سمجھتے کہ وہ اٹھائے جانے والے ہیں ، ایک بڑے دن کے لئے ۔ جس دن تمام انسان خدا وند عالم کے سامنے کھڑے ہوں گے ( التطفیف ۱ - ۶ )

ويل للمطففين کی تشریح مفسر النسفی نے ان الفاظ میں کی ہے کہ وہ لوگ جو انسانوں کے حقوق کو ناپنے اور تولنے میں گھٹا دیتے ہیں ( للذين يبخسون حقوق الناس في الكيل و الوزن ) اس آیت کا تعلق صرف ان چند افراد سے نہیں ہے جو دکانداری کرتے ہوں اور ترازو میں تول کر کوئی چیز بیچ رہے ہوں ، بلکہ اس کا تعلق تمام انسانوں سے ہے۔ ناپ اور تول سے مراد دراصل انسانی حقوق کی ادائیگی ہے۔ یہاں ترازو کی مثال سے بتایا گیا ہے کہ لین اور دین دونوں برابر رکھو۔ جس طرح تم اپنا حق پورا لینا چاہتے ہو ، اسی طرح دوسروں کو بھی ان کا پورا حق دو۔ یہ طریقہ نہ اختیار کرو کہ اپنے لئے دوسرا باٹ اور غیروں کے لئے دوسرا باٹ۔

اس اخلاقی کمزوری کا اظہار سب سے زیادہ اختلاف والے معاملات میں ہوتا ہے۔ ایک شخص

‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues

Printed page