المطففین
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۲
گوجروں نے یہ سنا تو وہ پنڈتوں پر غصہ ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ تم کو ہم نے اپنی مدد کے لئے بلایا تھا اور تم یہاں آ کر خود ہمارے خلاف فیصلہ کر رہے ہو۔ اب وہ پنڈتوں کو برا بھلا کہنے لگے۔ ایک گوجر نے اپنی مونچھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کہ اب ہم خود خالی کرائیں گے۔ ۱۶ لاکھ میں اس کو خریدلا ہے ، ۱۶ لاکھ اوپر سے اور لگائیں گے ۔ اور خالی کرا کے چھوڑیں گے۔ پنڈت لوگوں نے یہ سنا تو وہ بھی غصہ ہو گئے اور یہ کہہ کر چلے گئے کہ کرایہ داروں نے تو جائز بات کہی تھی۔ مگر تم لوگ دھاندلی کر رہے ہو تو اب ہم بھی دیکھ لیں گے کہ تم کیسے خالی کراتے ہو۔ گھونڈلی میں پنڈت لوگوں کا ایک اسکول ہے جس کا نام سناتن دھرم مڈل اسکول ہے۔ یہاں آٹھویں تک تعلیم ہوتی ہے۔ محفوظ صاحب کی بچی یہاں ساتویں کلاس میں پڑھ رہی تھی۔ جب مکان کا جھگڑا پیدا ہوا تو محفوظ صاحب نے احتیاط کے طور پر یہ طے کیا کہ بچی کو اس اسکول سے نکال لیں اور اس کا داخلہ دوسری جگہ کرائیں۔ کیوں کہ پتہ نہیں کب یہاں کا مکان چھوڑنا پڑے۔ محفوظ صاحب ۱۶ اپریل ۱۹۹۰ کو اسکول گئے تا کہ بچی کا نام وہاں سے کٹوا دیں اور لیونگ سرٹیفیکیٹ حاصل کریں۔ اس وقت اسکول کے منیجر (سری گوڑ) وہاں موجود تھے۔ انھوں نے پوچھا کہ آپ اپنی بچی کو کیوں یہاں سے نکال رہے ہیں۔ محفوظ صاحب نے کہا کہ گوجر لوگوں نے مکان کا جھگڑا کھڑا کر دیا ہے، وہ زبردستی مکان خالی کروا نا چاہتے ہیں۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ بچی کی تعلیم کا بندوبست کہیں اور کروں۔
سری گوڑ نے کہا کہ اگر آپ اس وجہ سے بچی کا نام کٹوا رہے ہیں تو آپ ہرگز ایسا نہ کریں ۔ کیا اس ملک میں کوئی قانون نہیں ہے۔ وہ لوگ کیسے خالی کرا لیں گے۔ آپ اپنے مکان میں رہئے۔ ہم ہم سب لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔ اور اگر خالی کرنا ہواتو سیدھے سیدھے نہیں خالی کیا جائے گا۔ خالی کروانے والوں کو دو دو لاکھ روپیہ دینا ہوگا۔
پوری آبادی میں یہ بات پھیل گئی کہ پنڈت لوگ مسلمانوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ محفوظ صاحب نے بتایا کہ اب وہ لوگ ہمارے مشیر بن گئے۔ حتی کہ ایک پنڈت نے کہا کہ اگر پیسہ کی ضرورت پڑی تو ہم پیسہ بھی خرچ کریں گے اور آپ کو جتائیں گے۔
پنڈت لوگوں کے مشورہ پر محفوظ صاحب نے اس معاملہ کی رپورٹ تھانہ میں درج کر آئی
‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues