انتقام نہیں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۹
ساڑھے پانچ گھنٹہ کا فرق ہے۔ اس فرق کی بنا پر دن ک پورا کرنے کے لئے مجھے ساڑھے پانچ گھنٹے مزید مل گئے ۔
ایک ملک اور دوسرے ملک میں وقت کا فرق زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہے۔ آدمی زمین کے “ وقت “ میں فرق نہیں کرسکتا، اس لئے اس نے اپنی گھڑی کے وقت میں فرق کر لیا ۔ حقیقت سے اسی مطابقت کا نام ایڈجسٹمنٹ ہے۔ اور اسی ایڈجسٹمنٹ میں تمام کامیابیوں کا راز چھپا ہوا ہے۔ جو لوگ حقیقت و واقعہ سے مطابقت پر راضی نہ ہوں، ان کو اس دنیا میں صرف اپنی بربادی پر راضی ہونا پڑتا ہے، خواہ وہ اس کو پسند کریں یا نا پسند۔
اس سفر کا پہلا مرحلہ ۲۴ اپریل ۱۹۹۰ کو پیش آیا۔ کانفرنس کے منتظمین کی طرف سے جو کا غذات آئے تھے، اس میں درج تھا کہ روانگی سے پہلے زرد بخار (yellow fever) کا انجکشن لگوالیں۔ اس سلسلہ میں ۲۴ اپریل کو نئی دہلی میونسپل کمیٹی کے دفتر میں جانا ہوا۔ یہاں ہفتہ میں دو بار ( بدھ ، جمعہ) کو باہر جانے والے مسافروں کے لئے ٹیکہ (vaccination) کا انتظام ہے۔ وہاں پہنچا تو پورا حال مردوں اور عورتوں سے بھرا ہوا تھا۔ یہ تمام لوگ باہر جانے کے لئے ٹیکہ لگوانے آئے تھے۔ میں مسٹر شاستری کے پاس بیٹھ گیا جو رجسٹر میں ہر ایک کے نام کا اندراج کر رہے تھے۔ نام سے اندازہ ہوا کہ آنے والوں میں چند عیسائی اور بیشتر ہندو تھے۔ میرے سوا وہاں کوئی بھی مسلمان نظر نہ آیا۔ اس کا مطلب واضح طور پر یہ تھا کہ ” انٹرنیشنل ٹریول“ میں مسلمانوں کا حصہ بہت کم ہے۔ ہمارے نام نہاد مسلم رہنما روزانہ کوئی نہ کوئی ” تاریخ ساز “ اجتماع کرتے رہتے ہیں۔ آپ ان میں شرکت کریں تو آپ کو نظم و نثر میں اس قسم کی باتیں سننے کو ملیں گی :
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی ستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے مگر اصل صورت حال اس کے برعکس ہے۔ لفظی پرواز میں مسلمان سب سے آگے ہیں، اور حقیقی پرواز میں سب سے پیچھے ۔
نئی دہلی میونسپل کمیٹی کے مذکورہ دفتر جانے سے پہلے میں ایک عربی جریدہ پڑھ رہا تھا۔ اس میں ایک مضمون تھا جس کا عنوان تھا : مقیاس التقدم والتخلف ( آگے اور پیچھے ہونے کا معیار) اس مضمون میں ان لوگوں کو برا کہا گیا تھا جو ” مستشرقین “ کی تقلید میں مسلمانوں کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ وہ ایک کچہری
‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues