Al-Risala · September 1990 · page 28

انتقام نہیں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۸

ایک سفر

بین اقوامی سفر آج کل ہوائی جہاز کی تیز رفتاری کے ساتھ کئے جاتے ہیں۔ مگر میں ذہنی طور پر ایک "سست رفتار" آدمی ہوں۔ اس بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک سے زیادہ سفر قریب کی تاریخوں میں پیش آجائیں تو میں صرف ایک کو اختیار کر پاتا ہوں۔ اور بقیہ مجھ سے چھوٹ جاتا ہے۔

یہی واقعہ موجودہ سفر کے موقع پر پیش آیا۔ مئی ۱۹۹۰ء کی ابتدائی تاریخوں کے لئے میرے پاس دو بیرونی دعوت نامے آئے تھے۔ دونوں کا ٹکٹ بھی آچکا تھا۔ مگر میں صرف ایک سفر کر سکا۔ دوسرا سفر مجھے چھوڑ دینا پڑا۔

پہلا سفر مجھے جنیوا (سوئٹزرلینڈ) کے لئے کرنا تھا۔ جنیوا میں سید جمال الدین افغانی کے مجلہ العروة الوثقی کے سلسلہ میں ایک تقریب تھی۔ یہ تقریب انٹرنیشنل ہوٹل (جنیوا میں ۴ مئی ۱۹۹۰ کو ہوئی ۔ سید جمال الدین افغانی نے پیرس سے العروة الوثقی کے نام سے ایک ماہانہ پر چہ عربی زبان میں نکالا تھا۔ وہ چھ مہینہ جاری رہ کر بند ہو گیا۔ اب ڈاکٹر عبد الحکیم طيبي (افغانی) اسی نام سے جنیوا سے ایک پرچہ نکال رہے ہیں۔ یہ عربی اور انگریزی، دونوں زبانوں میں شائع ہوتا ہے۔ جنیوا میں اسی پرچہ ( العروة الوثقی) کی دسویں سالگرہ (anniversary) کے سلسلہ میں ایک تقریب تھی۔

مجھے اس تقریب میں شریک ہونا تھا اور وہاں اپنے خیالات کا اظہار کرنا تھا۔ منتظمین کے رزرویشن کے مطابق، اس کے لئے میری روانگی ۳۰ اپریل کو مقرر تھی۔ دوسری کانفرنس د کار (سینیگال) میں۷ ۱۰مئی ۱۹۹۰ کو تھی۔ اس میں شرکت کے لئے مجھے رزرویشن کے مطابق ۴ مئی کو جنیو اسے روانہ ہونا تھا۔ مگر اپنی ذہنی سست رفتاری کی بنا پر میں بیک وقت دونوں سفروں کا پروگرام نہ بنا سکا۔ چنانچہ جنیوا کا پروگرام مجھ سے چھوٹ گیا۔ دہلی سے ۳۰ اپریل کو روانہ ہونے کے بجائے میں ۴ مئی کو روانہ ہوا۔ اور اسی دن جنیوا ہوتے ہوئے شام کو د کار پہنچا۔

اتنا لمبا سفر ایک دن میں طے ہونے کا سبب وقت کا فرق تھا۔ انڈیا اور سینیگال کے وقت میں

‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues

Printed page