Al-Risala · September 1990 · page 42

Do not walk outside this area.

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴۲

یہ نو آبادیاتی طاقتوں کی دین ہے۔ پچھلی صدی میں ایسا ہوا کہ فرانسیسی سینیگال میں داخل ہوئے اور انگریز گامبیا میں۔ دونوں میں ایک دوسرے پر غلبہ پانے کے لیے کئی لڑائیاں ہوئیں۔ آخر یہ سمجھوتہ ہوا کہ انگریز گامبیا کے کچھ علاقے فرانسیسیوں کو دیدیں ۔ اور اس کے بدلے فرانسیسی صومالیہ کے کچھ علاقے انگریزوں کے حوالے کر دیں۔ اس طرح گیمبیا کا موجودہ عجیب و غریب ملک بنا۔ افریقہ کے لیے روانگی سے پہلے میں نے ہندوستان کے ایک اسلامی پرچہ (۱۰ اپریل ۱۹۹۰) میں ایک مضمون پڑھا۔ اس کا عنوان تھا " افریقہ میں اسلام " اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ افریقہ کے لوگوں نے نہایت آسانی کے ساتھ اسلام قبول کر لیا اور وہاں مسلمانوں نے بڑی بڑی سلطنتیں قائم کیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ : "عیسائیت کے مقابلہ میں اسلام کی تعلیمات بہت سادہ تھیں۔ اسلام نے مقامی افراد کی تہذیبی اقدار کو کم سے کم چھیڑا۔ اسلام نے وہ تمام باتیں قائم رہنے دیں جو اسلامی تعلیمات کے خلاف نہیں تھیں۔ اور افریقیوں کو ان کے اپنے طور طریقوں کے ساتھ رہنے دیا “ یہ بات بذات خود صحیح ہے۔ اور میں نے اپنے سفر افریقہ میں اس کی مختلف مثالیں دیکھیں۔ مگر ہندوستانی مسلمانوں کا یہ مزاج بہت عجیب ہے۔ افریقہ اور دوسرے ملکوں کے بارے میں اسلام کا یہ تقاضا ان کی سمجھ میں آ جاتا ہے کہ زندگی کے طور طریقے جو براہ راست اسلام سے نہیں ٹکراتے ، ان میں غیر ضروری طور پر اپنی شناخت قائم کرنے کی کوشش کرنا دانش مندی نہیں ہے۔ مگر ہندوستان میں آتے ہی ان کا مزاج بالکل بدل جاتا ہے۔ یہاں ان کو اسلام کا مسئلہ نمبر ایک یہ نظر آنے لگتا ہے کہ مسلمان ہر معاملہ میں اپنی قومی شناخت علیحدہ قائم کریں۔ خواہ اس کا نتیجہ یہی کیوں نہ ہو کہ ہندوستان میں اسلام کی اشاعت کا کام بند ہو کر رہ جائے۔

افریقہ کی بیشتر آبادی مسلمان ہے۔ اس اعتبار سے افریقہ ایک مسلم بر اعظم ہے۔ اگرچہ ایشیا وہ بر اعظم ہے جہاں سب سے زیادہ تعداد میں مسلمان آباد ہیں۔ مگر ایشیا میں مجموعی آبادی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہاں نسبتاً زیادہ تعداد غیر مسلم اقوام کی ہے۔ جب کہ افریقہ میں اسلام سب سے بڑے مذہب کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم چند ملکوں کو چھوڑ کر بقیہ ممالک میں مسلمان کافی پس ماندہ ہیں۔ حتی کہ بعض ملکوں میں مسلم اکثریت کے باوجود عیسائی فرقہ حکومت کر رہا ہے۔ اس کی وجہ عیسائی سازش نہیں بلکہ مسلمانوں کی پس ماندگی ہے۔ مسلمان ان ملکوں میں تعلیمی اعتبار سے اتنے پیچھے ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues

Printed page