Al-Risala · September 1990 · page 43

Do not walk outside this area.

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴۳

کہ مقابلہ وہ وہاں حکمران بننے کی پوزیشن میں نہیں۔

حکومتوں کی دعوت پر یا انٹرنیشنل کانفرنسوں میں شرکت کے لئے جو سفر ہوتے ہیں، ان میں آدمی کو مصنوعی ماحول میں رہنا ہوتا ہے۔ مثلاً کاروں کے قافلہ میں خصوصی راستوں پر سفر کر ایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کا سفر کرنے والے کسی ملک کی حقیقی تصویر کو بہت کم دیکھ پاتے ہیں۔ میں اکثران اہتمامات کو توڑ کر ملکی حالات کو جاننے کی کوشش کرتا ہوں۔ مثلاً ایک بار میں نے اپنی کار چھوڑ دی اور ایک عام بس پر بیٹھ گیا جو مطلوبہ منزل کی طرف جارہی تھی۔ اس سفر کے دوران کئی نئی باتوں کا تجربہ ہوا۔ مثلاً میں نے دیکھا کہ عام افریقی بہت زیادہ بولتے ہیں، اور زیادہ بولنا ہمیشہ کم سوچنے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ ایک جگہ میں نے دیکھا کہ کئی خنزیر پھر گھوم رہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوا کہ یہاں مذہبی رواداری بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ اسی طرح اندازہ ہوا کہ اندرونی سڑکیں اتنی اچھی نہیں ہیں جتنی بیرونی سڑکیں اچھی ہیں۔ عام افریقیوں کے مکان بہت معمولی نظر آئے۔ وغیرہ اسلام افریقہ میں داخل ہوا تو پہلے وہ اس کے شمالی حصہ میں پہنچا۔ کیوں کہ یہ حصہ عرب دنیا سے ملا ہوا تھا۔ مغربی افریقہ میں اسلام کسی قدر بعد میں پہنچا۔ کہا جاتا ہے کہ مغربی افریقہ کے مسلمانوں ہی نے سب سے پہلے امریکہ کو دریافت کیا۔ وہ برازیل تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ۔ برازیل (جنوبی امریکہ کا نام ایک افریقی قبیلہ کے نام پر ہے جس کا واحد برزلہ اور جمع برازیل ہے۔ وغیرہ ایک مورخ نے مغربی غلبہ کے زمانہ میں لکھا تھا کہ افریقہ میں کئی بڑے بڑے علاقے ہیں جہاں کبھی اسلامی حکومت قائم نہیں ہوئی۔ اس کے باوجود اسلام وہاں پہنچا۔ حتیٰ کہ اب بھی وہاں اسلام پھیل رہا ہے جب کہ وہاں کے یورپی حکمراں اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے میں مشغول ہیں : حقیقت یہ ہے کہ اسلام فطرت کا دین ہے۔ وہ جہاں بھی پھیلتا ہے ، فطرت کے زور پر پھیلتا ہے نہ کہ حکومت یا مادی طاقت کے زور پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues

Printed page