Al-Risala · September 1990 · page 47

خبر نامه اسلامی مرکز ۶۵

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴۷

الگ مجلد کر وایا ہے۔ سفر میں الرسالہ کی ایک جلد میرے شریکِ سفر تی ہے۔ الرسالہ کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ کچھ دنوں کے بعد کوئی ساتھی شمارہ پڑھڑے ، نیا ہی معلوم ہوتا ہے۔ اور پریشانی کے عالم میں آپ کی تحریر ایک نیا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ جیسا کہ آپ لکھتے ہیں کہ الرسالہ کی ایجنسی لینا ملت کی ذہنی تعمیر میں حصہ لینا ہے جو آج ملت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ تو پھر میں نے بھی اس کو اسلام کی ضرورت سمجھے کر الرسالہ کی ایجنسی لے لی۔ پہلے پانچ کاپی منگواتا تھا۔ اب پندرہ کاپی منگواتا ہوں (مظفر امام ، گیا) ۱۲۔ ملک کا سنجیدہ طبقہ نہایت دل چسپی کے ساتھ الرسالہ پڑھ رہ رہا ہے اور اکثر خط یا ملاقات کے ذریعہ اپنے تاثرات کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ مثلاً ۲۸ اپریل ۱۹۹۰ کو جناب کلدیپ سنگھ گجرال (نئی دہلی) مرکز میں آئے اور دیر تک صدرِ اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔ انھوں نے کہا کہ میں نے بہت کتابیں اور میگزین پڑھی ہیں۔ مگر الرسالہ (اردو) نے مجھ کو جتنا متاثر کیا اتنا کسی نے بھی متاثر نہیں کیا۔

۱۳۔ مختلف اخبارات الرسالہ کے مضامین نقل کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح الرسالہ کا پیغام وسیع تر حلقہ میں برابر پھیل رہا ہے۔ مثلاً بمبئی کے اخبار انقلاب (۷ اپریل ۱۹۹۰) نے اور اردو ٹائمز (۱۹ اپریل) نے الرسالہ کے کئی مضامین نمایاں طور پر نقل کئے ہیں۔ ۱۴۔ محمود حسین زیدی صاحب علی گڑھ انجینرنگ کالج میں استاد ہیں۔ انھوں نے ۳ مئی ۱۹۹۰ کی ملاقات میں بتایا کہ وہ گاڈ آر ائٹز کئی بار خرید چکے ہیں مگر اب تک اس کو ختم نہ کرسکے۔ کیوں کہ جو شخص دیکھتا ہے اس کو قیمت دے کر لے لیتا ہے۔ باہر کے افراد مثلاً ناروے کے ایک پروفیسر علی گڑھ آئے تھے ، وہ بھی اسی طرح ان سے کتاب لے گئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جدید طبقہ میں مرکز کی کتابوں کی مانگ کتنی بڑھ چکی ہے۔ ۱۵۔ الرسالہ مئی ۱۹۹۰ میں جناب سید شفیع الدین صاحب کی ایک انگریزی نظم بعنوان " ذہنی سفر " صفحہ ۴۴ پر چھپی تھی۔ اس میں غلطی سے موصوف کی تعلیمی ڈگری کے تحت (M.A., (Eng) M.Ed لکھ دیا گیا تھا جب کہ علاوہ M.A., M.Com. ہیں۔

۱۶۔ الرسالہ کے ہندی ایڈیشن کی تیاریاں جاری ہیں۔ انشاء اللہ جلد ہی شائع ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues

Printed page