Al-Risala · October 1990 · page 16

بلند پروازی

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۱۶

بلند پروازی

جاپان ایئر لائنز کا ایک جہاز (بوئنگ ۱۴۷) ۱۲ اگست ۱۹۸۵ کو ٹوکیو سے اڑا۔ اسے ایک گھنٹہ میں اوسا کا پہنچنا تھا۔ مکر اڑان کے صرف ۱۰ منٹ بعد پائلٹ نے محسوس کیا کہ اس نے جہاز پر اپنا کنٹرول کھو دیا ہے۔ جہاز کو ۲۴ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑنا تھا۔ مگر وہ اترتے اترتے ۹۸۰۰ فٹ کی بلندی پر آگیا۔ اور بالآخر وہ پہاڑ سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا۔

اس جہاز کے ۵۲۰ مسافر مرگئے ۔ ان مرنے والوں میں ہندوستان کے ایک انجینئر مسٹر کلیان مگرجی اور ان کی بیوی بھی تھے ۔ مسٹرمکر جی کی عمر بوقت حادثہ ۴۱ سال تھی ۔ وہ ایک تجارتی مہم پر حال میں جاپان گئے تھے ۔ جاپان سے انھوں نے اپنے لڑکے نرنجن مگر جی (۱۳ سال) کے نام خط لکھا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ ۱۲ اگست کو ایک تفریحی سفر (pleasure trip) پر ٹوکیو سے اوسا کا جارہے ہیں۔ (ہندوستان ٹائمس ۱۴ اگست ۱۹۸۵)

جہاز کو بلندی پر اڑانے کا ایک مقصد یہ ہے کہ وہ پہاڑوں یا اونچی عمارتوں سے نہ ٹکرائے ۔ مذکورہ جہاز کے لیے ”۲۴ ہزار فٹ “ کی بلندی ایک محفوظ بلندی تھی۔ مگر جب اس کے انجن میں خرابی آگئی تو وہ اس محفوظ بلندی پر قائم نہ رہ سکا۔ وہ اترتے اترتے ” ۹۸۰۰ “ فٹ کی بلندی پر آگیا۔ اب وہ محفوظ بلندی کی سطح پر نہ رہا۔ چنانچہ وہ پہاڑ سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا۔

یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ ہماری زندگی کا سفر بے شمار انسانوں کے درمیان ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے فکر و خیال کے اعتبار سے نچلی سطح پر سفر کریں تو بار بار دوسروں سے ٹکراؤ ہوتا رہے گا۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ آدمی فکر و خیال کے اعتبار سے اپنے آپ کو اتنی بلندی پر پہنچادے کہ دوسروں سے ٹکراؤ کا امکان ہی اس کے لیے ختم ہو جائے ۔

اعراض کا اسلامی اصول آدمی کو یہی بلندی عطا کرتا ہے۔ اعراض اپنی حقیقت کے اعتبار سے عین وہی چیز ہے جس کو بعض مفکرین نے زندگی کے مسئلہ کا برتر حل (superior solution) کہا ہے۔ برابر کی سطح پر سفر کرنے میں دوسروں سے ٹکراؤ کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس لیے دانش مند آدمی اپنے سفر کی سطح کو بلند کر لیتا ہے ۔ تاکہ دوسروں کے ساتھ اس کا ٹکراؤ نہ پیش آئے ۔ اسی برتر حکمت کو اختیار کرنے کا نام اعراض ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1990 All issues

Printed page