Al-Risala · October 1990 · page 12

ایک خودکشی

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۱۲

ایک خودکشی

مسز پدما ڈیسائی مشہور صنعت کار راجہ رام کر لو سکر کی صاحبزادی تھیں۔ ان کی شادی سابق وزیر اعظم ہند مرار جی ڈیسائی کے صاحبزادے مسٹر کانتی لَالَ ڈیسائی سے ہوئی ۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کی معاشی حیثیت کیا تھی ۔ مگر ۱۷ نومبر ۱۹۸۴ء کو انھوں نے اپنے پانچویں منزل کے فلیٹ سے کود کر خود کشی کر لی ۔ اس وقت ان کی عمر ۵۱ سال تھی ۔ نیچے گرنے کے فوراً بعد وہ اسپتال لے جائی گئیں ۔ مگر ڈاکٹروں نے دیکھ کر بتایا کہ وہ اسپتال پہنچنے سے پہلے مر چکی ہیں ۔

انھوں نے خود کشی کیوں کی، اس کی وجہ خبر میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے :

Padma committed suicide after hearing that the family has lost a case in the Supreme Court to retain their flat. پدما نے یہ خبر سننے کے بعد خود کشی کر لی کہ ان کا خاندان اپنے فلیٹ کو قبضہ میں رکھنے کا کیس سپریم کورٹ میں ہار گیا ہے ( ہندوستان ٹائمِس ، ٹائمْس آف انڈیا ، ۷ نومبر ۱۹۸۴ء )

۱۹۷۷ء میں جنتا پارٹی کی کامیابی کے بعد مرار جی ڈیسائی وزیر اعظم ہوئے ۔ وزارت عظمیٰ کی ڈھائی سالہ مدت میں ان کے صاحبزادے کانتی لَالَ ڈیسائی نے کئی معاملات کیے ۔ ان میں سے ایک مذکورہ فلیٹ بھی تھا۔ میرین ڈرائیو (بمبئی) میں ایک بڑی بلڈنگ ہے جس کا نام اوشیانا (Oceana) ہے۔ اس کی پانچویں منزل پر یہ فلیٹ تھا۔ جنتا حکومت کے خاتمہ کے بعد عدالت میں یہ کیس چلا کہ مسٹر کانتی لَالَ ڈیسائی نے یہ فلیٹ غیر قانونی طور پر حاصل کیا تھا۔ عدالت نے اس کے حق میں فیصلہ دیا ، مسز پدما ڈیسائی کو اس فیصلہ کی خبر بذریعہ ٹیلی فون ملی ۔ اس کے بعد انھوں نے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی ۔ خاتون نے سمجھا کہ وہ خود کشی کر کے ہمیشہ کے لیے عدالت کے فیصلہ سے نجات حاصل کر رہی ہیں۔ لیکن اگر انھیں معلوم ہوتا کہ وہ خود کشی کر کے اپنے آپ کو زیادہ بڑی عدالت میں پہونچارہی ہیں جہاں اس قسم کے کسی اقدام کا موقع ان کے لیے باقی نہیں رہے گا ۔ تو ان کا فیصلہ بالکل مختلف ہوتا ۔ آدمی کی سب سے بڑی کمزوری عجلت پسندی ہے ۔ وہ فوری طور پر ایک سخت اقدام کر بیٹھتا ہے ، حالاں کہ اگر وہ سوچے تو کبھی ایسا نہ کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1990 All issues

Printed page