تربیتی ضمیمہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۲
کی تعبیر خالص سیاسی انداز میں کی۔ حتی کہ انھوں نے اذان اور نماز اور روزہ جیسے روحانی عمل کو بھی سیاسی عمل بنا کر دکھایا۔ جماعت اسلامی کے افراد کا ذہن اسی قسم کے سیاسی لٹریچر کو پڑھ کر بنا ہے۔ وہ اسلام کے پورے معاملے کو سیاسی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ایسی حالت میں عین فطری بات ہے کہ جماعت کے افراد میں سیاسی مزاج ہو، ان کے اندر روحانی مزاج نہ ہو۔ اگر آپ ببول کا بیج بوئیں تو اس سے آم کے پھل کی امید کرنا احمقانہ خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔ تربیت بذات خود ایک اسلامی عمل ہے اور اس کو قرآن میں تزکیہ کہا گیا ہے (ویزکهم) مگر تربیت (یا تزکیہ) اس وقت مفید ہوتا ہے جب کہ وہ فکری یاد دہانی کے لئے ہو۔ جس کا مقصد یہ ہو کہ وہ آدمی کو اس کا ایک بھولا ہوا سبق از سر نو یاد دلایا جائے۔
مگر جماعت اسلامی کے معاملہ میں اصل مسئلہ فکری یاد دہانی نہیں بلکہ فکری تعبیر کا ہے ۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کے لٹریچر نے جماعت کے افراد کے فکری ڈھانچہ کو سیاسی ڈھانچہ بنا دیا ہے جو روحانی ڈھانچہ کی عین ضد ہے۔ جب تک اس سیاسی ڈھانچہ کو توڑا نہ جائے ، روحانی سبق کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے آدمی کے ذہن پر سیاست کا ڈاٹ لگا ہوا ہوتا ہے۔ اس ڈاٹ کو توڑنے کے بعد ہی ذہن کے اندر کوئی نئی چیز داخل ہو سکتی ہے۔ اس سے پہلے نہیں۔
اگر آپ کہیں کہ " دین سے مراد اسٹیٹ ہے" تو یہ نظریہ آدمی کے اندر صرف سیاسی اندازِ فکر پیدا کرے گا۔ اس کے بعد یہ کہنا کہ " اسٹیٹ قائم کرنے کے لئے صالح افراد درکار ہوتے ہیں۔ اس لئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اللہ سے ڈریں تاکہ اچھی اسٹیٹ قائم کر سکیں ؟ تو یہ سیاسی ہاتھی کے دم میں روحانیت کا پتنگ باندھنا ہوگا۔ اس قسم کے تربیتی پیوند کے ذریعہ کبھی کسی کے اندر روحانیت کا طوفان بر پا نہیں ہو سکتا۔
اس کے برعکس اگر آپ یہ کہیں کہ " دین یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرے" تو یہ عقیدہ آدمی کے اندر روحانی ہلچل پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ جو لوگ اس فکر سے متاثر ہوں گے، وہ اپنے ابتدائی تاثر ہی کے اعتبار سے روحانی انسان بن جائیں گے۔ آدمی کی ذہنی تربیت ہمیشہ وہ فکر کرتا ہے جس نے اس کے ذہن کو بیدار کیا ہے۔ نہ کہ کسی قسم کا تربیتی ضمیمہ۔
جماعت اسلامی کے افراد کی تربیت حقیقہ یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ یہ اعلان کیا جائے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1990 All issues