Al-Risala · October 1990 · page 23

تربیتی ضمیمہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۳

کہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے اسلام کی جو سیاسی تعبیر کی وہ سراسر غلط تھی۔ اس کے بعد جماعت اسلامی کے افراد کو ہدایت کی جائے کہ وہ قرآن کو قرآن کے ذریعہ پڑھیں نہ کہ تفہیم القرآن کے ذریعہ۔ اس طرح کی انقلابی کوششوں سے تو یقیناً جماعت کے افراد کی تربیت ہو سکتی ہے۔ مگر موجودہ فکری حالت کو باقی رکھتے ہوئے "محکمہ تربیت" قائم کرنے کا کسی بھی درجہ میں کوئی فائدہ نہیں۔ جماعت اسلامی کا سیاسی نظریہ محرک روحانیت کو ختم کر دیتا ہے۔ اور محرک روحانیت کو ختم کرنے کے بعد کسی تربیتی ضمیمہ کے ذریعہ آدمی کے اندر روحانیت پیدا نہیں کی جاسکتی۔

آدمی کا کردار آدمی کے فکر کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کسی آدمی کے اندر جس ڈھنگ کی فکری اٹھان ہوگی اسی ڈھنگ کا کردار اس کے اندر پیدا ہوگا۔ سیاسی تحریکوں سے وابستہ افراد کی فکری اٹھان سیاسی انداز پر ہوتی ہے۔ اس لئے ان کے اندر جو اخلاق و کردار پیدا ہوتا ہے وہ بھی سیاسی انداز کا ہوتا ہے۔ ایک گروہ جس کے افراد کی فکری اٹھان سیاسی نظریات پر ہوئی ہو ان کے اندر کسی تربیتی ضمیمہ کے ذریعہ غیر سیاسی کردار لایا نہیں جاسکتا۔

جماعت اسلامی سے وابستہ افراد کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کی فکری اٹھان اسلام کی سیاسی تعبیر پر ہوئی ہے۔ وہ جماعت اسلامی کی طرف اسی لئے راغب ہوئے کہ وہ اسلام کو سیاسی نظام کے روپ میں پیش کر رہی تھی۔ اس تحریکی عمل کا قدرتی نتیجہ یہ تھا کہ ان کے اندر سیاسی مزاج اور سیاسی کردار ابھرے۔ جیسا کہ واقعہ ہوا۔

اب یہ ناممکن ہے کہ کسی قسم کے تربیتی ضمیمہ کے ذریعہ ان لوگوں کے اندر روحانی یا غیر سیاسی کردار پیدا کیا جائے۔ جماعت اسلامی کے افراد کے موجودہ فکری ڈھانچہ کو باقی رکھتے ہوئے "تربیتی ضمیمہ" کے ذریعہ ان کے اندر روحانیت لانے کی کوشش کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص ببول کا درخت بوئے اور جب وہ بڑا ہو کر ببول کا پھل دینے لگے تو وہ چاہے کہ اس کی شاخوں میں آم کا پھل لٹکا کر اس کو آم کا درخت بنا دیا جائے۔

سری نگر۔ کشمیر میں رسالہ اور اسلامی مرکز کی کتابوں کے لئے مندرجہ ذیل پتہ پر رابطہ کریں۔ Abdullah News Agency 1st Bridge, Lal Chowk Srinagar 190 001

‹ Previous page Next page › Contents of October 1990 All issues

Printed page