تربیتی ضمیمہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۳۲
ابتدائی دور کے مسلمانوں میں اولاً کتابتِ قرآن اور تدوینِ حدیث کے لئے علم کا جذبہ ابھرا۔ مگر جب علم کا جذبہ ابھرا تو پھر اس نے دوسرے تمام علوم میں بھی مسلمانوں کو آگے بڑھا دیا۔ انیسویں صدی کے کچھ مغربی مفکرین نے ایک معاشی یوٹوپیا بنا نا چاہا جہاں ہر ایک کو برابر برابر رزق مل رہا ہو۔ یہ فرضی سوسائٹی موجودہ دنیا میں محال ہے کیونکہ وہ تخلیق کے نظام سے ٹکراتی ہے۔ تاہم اگر بالفرض ایسا سماج بن جائے تو تمام ترقیاں ٹھپ ہو کر رہ جائیں گی، کیونکہ ترقی کا جذبہ ہمیشہ ”فرق“ کو دیکھ کر ابھرتا ہے اور جب فرق ہی باقی نہ رہے تو ترقی کا جذبہ کیوں کر پیدا ہو گا ۔
ایک بار ہوٹل کے لاؤنج میں کچھ افسر ترقی مقامی زبان میں بات کر رہے تھے۔ میری سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ اس کے بعد ہوٹل کے باہر نکلا تو جھاڑی میں ایک بلی تھی ۔ اس نے ” میاؤں میاؤں“ کی آواز نکالی۔ اچانک خیال آیا کہ جانور تمام دنیا میں ایک ہی انداز پر بولتے ہیں ۔ کوئی جانور جس طرح ہندوستان میں بولتا ہے ، ٹھیک اسی طرح وہ یورپ اور افریقہ میں بھی بولتا ہے ۔ مگر انسان کی بولیاں الگ الگ ہیں۔ حتی کہ دنیا بھر میں ان کی کئی ہزار بولیاں ہو گئی ہیں۔ پھر خیال آیا کہ یہ انسان کے حالتِ امتحان میں ہونے کا ایک پہلو ہے۔ جانوروں کا کوئی امتحان نہیں۔ اس بنا پر ان کی ہر نوع کے لئے ایک ہی بولی مقرر کر دی گئی۔ مگر انسان اس امتحانی میزان پر کھڑا کیا گیا ہے کہ وہ خود اپنے ارادے سے متحد ہو۔ وہ اختلاف کے باوجود اتحاد کا ثبوت دے۔ جانوروں سے امتحان مطلوب نہ تھا، اس لئے انہیں از اول تا آخر حالتِ اتحاد میں رکھا گیا۔ اس کے برعکس انسان سے امتحان مطلوب تھا۔ اس لئے انھیں حالتِ اختلاف میں ڈال دیا گیا۔ اور پھر کہا گیا کہ تم اپنے اختلاف کو نظر انداز کرتے ہوئے اتحاد کا ثبوت دو۔
الشیخ عبدالعزیز سی ی (عمر ۶۳ سال ) یہاں کی ممتاز دینی شخصیت ہیں۔ ان کی مادری زبان اگر چہ اُلف ہے۔ مگر وہ روانی کے ساتھ عربی بولتے ہیں ۔ انھوں نے ” تجول “ کی پیش کش کی۔ چنانچہ ان کے ساتھ شہر گھومنے کے لئے نکلا۔
دکار کی سڑکیں نہایت عمدہ ہیں۔ ان کے دونوں طرف عمارتیں زیادہ تر فرانسیسی طرز کی نظر آتی ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ سڑکیں غالباً فرانسیسیوں نے اپنے دورِ اقتدار میں بنائی تھیں ۔ انھوں نے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1990 All issues