تربیتی ضمیمہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۳۳
فوراً کہا: نعم ولكن بعد الاستقلال قمنا بالتجديد ( ہاں، مگر آزادی کے بعد ہم نے ان کی تجدید کی ہے)۔
چلتے ہوئے ہم دکار کی سب سے بڑی مسجد جامع میں پہنچے۔ مگر وہ مکمل طور پر بند تھی۔ دروازہ پر تالا لگا ہوا تھا۔ معلوم ہوا کہ یہاں عام مسجدوں میں پانچ وقت کی نماز ہوتی ہے اور وہ کھلی رہتی ہے۔ مگر" جوامع " صرف نماز جمعہ کے لئے ہوتی ہیں۔ جمعہ کی نماز کے بعد وہ بند کر دی جاتی ہیں اور پھر اگلے جمعہ کو کھلتی ہیں (یغلق بعد صلاة الجمعة الى الجمعة الآخر) اسی طرح ایک اور بڑی مسجد پر پہنچے تو وہاں بھی تالا لگا ہوا تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ بھی جامع مسجد ہے اور وہ ہفتہ میں ایک بار صرف جمعہ کی نماز کے لئے کھولی جاتی ہے۔ یہ بات پہلی بار صرف یہاں دیکھی۔ کئی عام مسجدیں دیکھیں ۔ ایک کا نام مسجد السید الحاج مالک سی تھا۔ یہ مسجد پہلی عالمی جنگ سے پہلے ۱۹۰۹ میں بنائی گئی تھی۔ پوری مسجد ایک بڑے هال کی مانند تھی۔ سامنے خوبصورت انداز میں امام کے لئے کھڑے ہونے کی جگہ بنی ہوئی ہے۔ مسجد کا یہ انداز مجھے بہت پسند ہے۔ ایک بڑی دینی درس گاہ دیکھی۔ اس کا نام المعهد الاسلامی (دکار) تھا۔ اس وقت وہاں تعطیل تھی۔ تاہم عمارت کھلی ہوئی تھی۔ اس لئے اندر تک پور احصہ دیکھا۔ اس کا طرز تعمیر بالکل مسلم اسپین کے انداز کا ہے۔
راستہ میں ایک مقام پر بہت بڑی عمارت نظر پڑی جو نامکمل تھی۔ میرے ساتھی نے بتایا کہ یہ مرکز عراق کے تعاون سے بن رہا تھا اور خود صدر صدام حسین نے اس کی بنیاد رکھی تھی۔ مگر اس کے بعد ایران عراق جنگ چھڑ گئی۔ اس بنا پر اس کی عمارت مکمل نہ ہوسکی۔ یہ مرکز میری نظر میں اس اصول کی ایک مثال تھا کہ : ایک کام کرنے کے لئے آدمی کو دوسرا کام چھوڑنا پڑتا ہے۔ آدمی کے وسائل ہمیشہ محدود ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ تعمیر اور تخریب دونوں کام ساتھ ساتھ کر سکے۔ ایران اور عراق دونوں اس اصول کے زندہ نمونے ہیں۔
الشیخ عبدالعزیز سی دکار شہر دکھاتے ہوئے آخر میں مجھ کو سمندر کے کنارے کی سڑک سے واپس لائے۔ ایک طرف سمندر کی موجیں تھیں ۔ دوسری طرف سڑک کے کنارے دور تک سفیدوں کے خوبصورت مکانات تھے ۔ چکنی سڑک پر آٹومیٹک کار نہایت ہموار انداز سے چلی جارہی تھی۔ مگر اتنی دیر میں میرے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1990 All issues