Al-Risala · October 1990 · page 35

در حیرتم کہ دہقاں بہ چہ کار کشت مارا

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۳۵

آپ ختم ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر اسماعیل عبد العلیم (عمر ۵۰ سال) لندن میں رہتے ہیں۔ لندن کے مسلمانوں کے حالات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہاں مسلمانوں میں سب سے زیادہ برصغیر ہند کے لوگ رہتے ہیں۔ ساؤتھ ہال میں ہندوستانی ، برہید فورڈ میں پاکستانی اور ایسٹ اینڈ میں بنگلہ دیشی ۔ یہ لوگ یہاں اپنے انھیں رواجوں اور انھیں عادتوں کے ساتھ رہتے ہیں جو وہ اپنے ملک سے لے آئے ہیں۔ میں نے کہا کہ پھر انگریز انھیں ناپسند نہیں کرتے۔ انھوں نے کہا کہ انگریزوں میں ٹالرنس غیر معمولی حد تک پایا جاتا ہے۔ عرب ان کے اس مزاج کو البرودۃ الانجلیزیہ کہتے ہیں۔ انگریز کبھی آپ سے یہ نہیں کہے گا کہ وہ آپ کو پسند نہیں کرتا۔ یا یہ کہ تم اپنے ملک کو واپس چلے جاؤ، خواہ وہ آپ کے اوپر کتنا ہی زیادہ غصہ کیوں نہ ہو ( لا يقول الانجليزی انه لا يحبك وعليك ان ترجع الی بلدک مهما کان هو غاضباً عليك )

یہی تحمل قوموں کی ترقی کا راز ہے۔ جو قوم تحمل اور برداشت کی صفت کھو دے، وہ موجودہ دنیا میں کبھی اعلی ترقی نہیں کر سکتی۔

طارق الکمہ ذی ایک عرب نوجوان ہیں۔ وہ ڈبلن (یورپ) میں رہتے ہیں۔ ان کے ایک واقف کار نے بتایا کہ وہ وہاں اسلامی مرکز کے طرز پر باقاعدہ دعوت کا کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے دو چھپے ہوئے انگریزی پمفلٹ مجھے دئے۔ یہ میرے دو مضامین کے انگریزی ترجمے تھے۔ ان کو چھاپ کر وہ وہاں تقسیم کر رہے ہیں۔ ان کے عنوانات یہ ہیں :

1. What is Islam 2. Islam in the 21st Century ایک اور صاحب جو بحرین سے تعلق رکھتے تھے، انھوں نے بحرین کا عربی مجلہ الھدایۃ ( جمادی الاولیٰ ۱۴۱۰ھ ، دسمبر ۱۹۸۹) دیا۔ یہ مجلہ بحرین کی وزارة العدل والشئون الاسلاميۃ کی طرف سے شائع ہوتا ہے۔ مذکورہ شمارہ میں راقم الحروف کی کتاب ” تجدید دین “ کے عربی ایڈیشن کا مفصل تعارف ” تجدید علوم الدین “ کے عنوان سے چھپا ہے۔ تبصرہ نگار ڈاکٹر کارم السید غنیم ہیں ۔ آٹھ صفحہ کے مفصل تعارف کے بعد آخر میں لکھتے ہیں : ختاماً فاننا نرى الكتاب الحالی من

‹ Previous page Next page › Contents of October 1990 All issues

Printed page