Al-Risala · October 1990 · page 36

در حیرتم کہ دہقاں بہ چہ کار کشت مارا

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۳۶

(صفحہ ۷۱)

الرسالة مشن کی جتنی مخالفت کی گئی، اتنی شاید موجودہ زمانہ میں کسی بھی تحریک کی مخالفت نہیں کی گئی۔ اس کے باوجود یہ اللہ کا فضل ہے کہ یہ مشن ہندوستان، پاکستان، عرب ممالک اور مغربی ممالک میں پھیل گیا۔ اور اب انشاء اللہ کسی کی مخالفت اس فکری سیلاب کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ڈاکٹر اسماعیل عبد الحلیم ملائیشیا (سلانگور) کے رہنے والے ہیں۔ اس وقت وہ لندن میں ایک کالج سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں جولائی ۱۹۹۰ میں اپنے وطن واپس چلا جاؤں گا۔ ہمارے یہاں حکومت میں امور مذہبی کا ایک شعبہ ہے۔ اس میں مجھے کام کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں مجھے مشورہ دیجیے کہ ملائیشیا پہنچ کر میں کس طرح مسلمانوں کی اسلامی تعلیم و تربیت کا کام کروں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ایک صورت یہ ہے کہ مسلمانوں میں زکوۃ کا نظام رائج کیا جائے ۔ میں نے کہا کہ آپ زکوۃ کے نفاذ سے اپنے کام کا آغاز نہ کریں۔ یہ طریقہ ضیاء الحق صاحب کے زمانہ میں پاکستان میں ناکام ہو چکا ہے۔ موجودہ صورت میں زکوۃ ایک مسلمان کو دہراٹیکس معلوم ہوتی ہے ۔ پھر وہ کیسے اس پر راضی ہو سکتا ہے۔ اس کے جواب میں انھوں نے جو کچھ کہا وہ میرے لئے نئی بات تھی ۔ انھوں نے کہا کہ ملائیشیا میں زکوۃ کی ادا شدہ رقم کو لکی ٹیکس میں محسوب کر دیا جاتا ہے۔ اس لئے وہاں دہراٹیکس کی صورت نہیں پیدا ہوتی :

المسلم في ماليزيا عليه ان يدفع ضريبة الدخل السنوى وزكاة المال اذا كان غنيا۔ واذا دفع المسلم زكوة المال التي عليه فله الحق قانونيا ان يقول للحكومة عليك ان تحسب هذا المبلغ الذي دفعته باسم الزكاة، هو في حد ذاته جزء من ضريبة الدخل حق۔

حسب پروگرام ۷ مئی کی شام کو کانفرنس کا افتتاح ہوا۔ یہ افتتاح صدر مملکت عبدہ ضیوف نے کیا۔ یہ پروگرام یہاں کے سب سے بڑے ہال میں کیا گیا تھا۔ وسیع ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ کثیر تعداد میں لوگ ہال کے باہر موجود تھے۔ یہاں اکثر پروگراموں میں میں نے دیکھا کہ عوام ہزاروں کی تعداد میں اکٹھا ہیں۔ عام طور پر اس طرح کی کانفرنسوں میں محدود تعداد میں صرف علماء اور دانشور

‹ Previous page Next page › Contents of October 1990 All issues

Printed page