Taqwa is to mobilize the people
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۳۹
میرے لئے معلوم الفاظ تھے، مگر میں کچھ بھی سمجھ نہ سکا کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ تفسیرِ اسلام اور تعبیرِ دین کا یہ طریقہ مشہورِ مسلم رہنماؤں کے یہاں بھی مکمل طور پر موجود ہے۔ مثلاً سفر سے پہلے میں نے سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ”جہاد فی سبیل اللہ“ پڑھی۔ یہ کتاب اردو میں تھی۔ پوری کتاب میرے لئے ناقابلِ فہم تھی۔ کیوں کہ اس کتاب میں خطابت اور انشا پر دازی تو ضرور تھی، مگر دلیل کی نوعیت کی کوئی چیز اس میں میں نے نہیں پائی۔ اس کتاب میں جن آیتوں یا حدیثوں سے مصنف نے اپنا انقلابی نقطہ نظر نکالا ہے وہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ویسا ہی تھا جیسا مذکورہ انگریزی قول میں نظر آتا ہے۔
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے اپنا کارڈ دیا تو معلوم ہوا کہ وہ احمد خلیفہ نیاس ہیں ۔ وہ المھد الاسلامی الزراعی کے پریزیڈنٹ (رئیس) تھے۔ ان کے کارڈ پر ”جنرل ڈی گال اسٹریٹ“ لکھا ہوا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دکار میں فرانس کے سابق حکمراں جنرل ڈی گال کے نام سے سڑک موجود ہے۔
جنرل ڈی گال کے نام سے گالزم (Gaullism) کی اصطلاح بنی ہے۔ ڈیگال کے زمانہ میں سینیگال اور دوسرے کئی افریقی ملکوں میں فرانس کی حکومت تھی۔ تاہم آزادی کی تحریکوں نے ان مقبوضات کو فرانس کے لئے ایک بوجھ بنا دیا تھا۔ ڈی گال نے حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے ان ملکوں کو یک طرفہ طور پر آزاد کر دیا۔ ڈیگال کے اس عمل نے فرانس کو نئی طاقت دے دی ۔ تاہم فرانس کو زندہ کرنے کا یہ کام صرف اس قیمت پر ہوا کہ اس کے بعد ڈی گال کی سیاسی موت ہو گئی۔
اکثر حالات میں قوموں کے مسائل کا حل اسی حقیقت پسندانہ تدبیر میں ہوتا ہے۔ مگر قوموں کے رہنما افراد اپنی موت پر راضی نہیں ہوتے، اس لئے وہ قوموں کو زندگی دینے میں بھی کامیاب نہیں ہوتے۔ ۶ مئی ۱۹۹۰ء کی سہ پہر کو افریقی بچوں کا پروگرام تھا۔ یہ بے حد مؤثر پر وگر ام تھا۔ مگر وہ بچوں کے عملی نوعیت کا تھا اس لئے اس کو لفظوں میں پوری طرح بیان نہیں کیا جاسکتا۔
یہاں ایک تنظیم دائرۃ المستر شدین والمستر شدات کے نام سے قائم ہے ۔ سارے ملک میں اس کے مدارس موجود ہیں جن میں لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم وتربیت کا معقول انتظام ہے۔ یہ طلبہ اور طالبات ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوئے۔ انھوں نے کئی بڑے اثر انگیز پروگرام کئے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1990 All issues