Al-Risala · October 1990 · page 40

Taqwa is to mobilize the people

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴۰

اس پروگرام کا انتظام دکار کے بڑے اسٹیڈیم میں کیا گیا اسٹیڈیم کے ایک طرف مہمان حضرات اونچی نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ درمیان میں کھلا ہوا میدان تھا۔ میدان کے دوسری طرف ہمارے سامنے دوبارہ اونچی پنچی نشستوں پر ہزاروں کی تعداد میں افریقی لڑکے اور لڑکویوں کی قطاریں تھیں۔ سفید لباس اں کا قومی لباس ہے۔ چنانچہ سب کے سب مکمل طور پر سفید کپڑوں میں ملبوس تھے۔ سفید کپڑوں میں لپٹے ہوئے ان کے کالے چہرے اس طرح دکھائی دیتے تھے گو یا یہ کوئی دوسری مخلوق ہے جو آسمان سے زمین پر اتر آئی ہے۔

ایک شخص سیٹی لئے ہوئے میدان کے درمیان کھڑا ہوا تھا۔ اس کی سیٹی پر کنارہ کے گیٹ سے لڑکے اور لڑکیاں منظم ٹولیوں کی صورت میں سفید کپڑوں کے ساتھ مارچ کرتے ہوئے سامنے سے گزرنے لگے۔ باری باری ایک ایک ٹولی آرہی تھی اور مخصوص انداز میں مارچ کرتی ہوئی ایک طرف سے دوسری طرف جارہی تھی۔ ایک آدمی ماہرانہ انداز میں سیٹی بجا کر اور ہاتھ سے اشارہ کر کے ان کی رہنمائی کر رہا تھا۔ اس طرح تقریباً ۲۰ مدرسوں کے طلبہ و طالبات گزرے۔

یہ منظر بڑا اثر انگیز تھا۔ وہ میرے لئے قیامت کے اس واقعہ کی تمثیل بن گیا جس میں کہا گیا ہے کہ وسيق الذين اتقوا ربهم الى الجنة زمرا (الزمر)، ایسا معلوم ہوتا تھا گویا اہل جنت کے قافلے ایک کے بعد ایک آرہے ہیں۔ اور خدا کا نمائندہ بلندی پر کھڑا ہوا ان کو جنت کی طرف رہنمائی کر رہا ہے۔

سینیگال (اور مغربی افریقہ کے دوسرے ملکوں) میں بعض رواج بڑے عجیب ہیں جو قدیم قبائلی دور سے چلے آرہے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ اگر آپ کسی افریقی عورت کو دیکھیں کہ اس کے سینہ کے اوپر کا حصہ کھلا ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ابھی غیر شادی شدہ ہے اور اگر یہ سینہ کے اوپر کا حصہ ڈھکا ہوا ہے تو وہ شادی شدہ ہوگی (إذا وجدت اور أيت فتاة عارية من فوق صدرها فهذه دلالة على أنها لا تزال بكراً و العكس هو الصحيح)

اس جملہ میں والعکس هو الصحيح انگریزی اسلوب (and vice versa) کا ترجمہ ہے۔ انگریزی اور فرانسیسی اسالیب اس طرح کثرت سے جدید عربی میں رائج ہو گئے ہیں۔ ایک صاحب سے ملنے کے لئے میں ان کے ہوٹل کے کمرہ میں داخل ہوا۔ ٹیلی ویژن کھلا ہوا تھا

‹ Previous page Next page › Contents of October 1990 All issues

Printed page