Taqwa is to mobilize the people
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴۲
9 مئی 1990 کی شام کو " قصر الرئیس " میں جمہوریہ سینیگال کے صدر عبدہ ضیوف کے ساتھ اجتماعی ملاقات ہوئی۔ اس عمارت کی تصویر اس سے پہلے میں نے انسائیکلو پیڈیا بر ٹانیکا میں دیکھی تھی۔ اس لئے جب میں وہاں پہنچا تو مجھے اجنبیت محسوس نہیں ہوئی۔ باہر سے وہ مجھے دیکھی ہوئی عمارت کی طرح نظر آئی ۔ فرانسیسیوں کی بنائی ہوئی یہ عمارت انتہائی سادگی کے باوجود انتہائی پر شوکت ہے۔ جب میں اس " قصر " میں داخل ہوا اور اس کے مختلف حصوں سے گزرتا ہوا اس مخصوص ہال میں پہنچا جہاں صدر کے ساتھ ملاقات مقرر تھی تو میرا پہلا تاثر یہ تھا : اقتدار کی شان و شوکت اتنی زیادہ ہے کہ مشکل ہی سے کوئی شخص ایسا ہو سکتا ہے جو اس کو دیکھے ، اس کے باوجود اس کا طالب نہ بنے۔
صدر سے ملاقات کے بعد کلچرل منسٹر کی رہائش گاہ پر ملاقات کا پروگرام تھا۔ وہاں پہنچے تو گانے کی ریکارڈنگ ہو رہی تھی۔ صدر کی رہائش گاہ میں مکمل سکون تھا۔ مگر کلچرل منسٹر کی رہائش گاہ میں شاید عہدہ کی رعایت سے صوتی آرٹ کا مظاہرہ کیا جارہاتھا۔ یہاں ہم نے مغرب کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی۔
یہاں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں پاکستان اور ایران کے سفیر بھی تھے۔ میرا ارادہ ہندستان کے سفیر سے ملاقات کرنے کا تھا۔ مگر معلوم ہوا کہ ہندستان کا سفارت خانہ اس وقت بغیر سفیر ہے ۔ سکنڈ سیکرٹری ضروری فرائض انجام دے رہے ہیں۔
شام کا کھانا ایک لبنانی تاجر کے یہاں تھا ۔ وہ لبنانی عرب ہیں اور ان کا نام فواد شقیری ہے۔ وہ یہاں امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس کرتے ہیں۔ ان کا عالی شان مکان بتارہا تھا کہ وہ اپنی تجارت میں نہایت کامیاب ہیں۔ آج کے کھانے پر پر یذیڈنٹ مسٹر عبدہ ضیوف بھی مدعو تھے۔ مگر کسی وقتی سبب سے نہ آسکے۔ ان کی طرف سے ان کے ایک نمائندہ نے شرکت کی۔
9 مئی کو تِواون (Tivoouane) کا پروگرام تھا۔ یہاں سینیگال کے بہت بڑے شیخ عبد العزیز ی ( الخليفة العام للطائفة التيجانية ) رہتے ہیں۔ وہ نہ صرف بہت ضعیف ہو چکے ہیں، بلکہ دونوں آنکھوں سے معذور بھی ہیں۔ ان کا معاملہ یہاں تقریباً وہی ہے جو سعودی عرب میں شیخ باز کا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1990 All issues